Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیسلا کی یورپی مارکیٹس میں پسپائی، چینی کمپنی بی وائے ڈی نے نئی تاریخ رقم کر دی

رواں برس بہار میں بی وائی ڈی نے پہلی مرتبہ یورپ میں ٹیسلا سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں (فائل فوٹو:اے ایف پی)
یورپ میں جولائی کے مہینے میں امریکی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا کی فروخت میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ چینی کمپنی  بی وائے ڈی نے نمایاں ترقی کرتے ہوئے پہلی بار ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
برطانوی نیوز سائٹ ’دی گارڈیئن‘ نے یورپی آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے سی ای اے) کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ گزشتہ ماہ یورپی یونین، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن اور برطانیہ میں ٹیسلا کی آٹھ ہزار 837 گاڑیاں فروخت ہوئیں جبکہ جولائی 2024 میں یہ تعداد 14 ہزار 769 تھی۔
اس کے برعکس بی وائی ڈی کی نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن 13 ہزار 503 تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ برس اسی مہینے میں چار ہزار 151 تھی۔
اے سی ای اے کے مطابق بی وائی ڈی نے یورپی مارکیٹ میں ایک اعشاریہ دو فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے جب کہ ٹیسلا کا حصہ صفر اعشاریہ آٹھ فیصد پر برقرار ہے۔
چینی کار ساز کمپنیاں جو نسبتاً کم قیمت ماڈلز پیش کرتی ہیں، یورپ میں بہت تیزی سے اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔
مارکیٹ ریسرچ کمپنی جیٹو ڈائنامکس کی رپورٹ کے مطابق رواں برس بہار میں بی وائی ڈی نے پہلی مرتبہ یورپ میں ٹیسلا سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں۔
برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکی کمپنی فورڈ کو نئی الیکٹرک گاڑیوں پر سب سے زیادہ یعنی 3750 یورو کی سبسڈی دی جائے گی جو جنریشن ای( Gen-E) اور e-Tourneo Courier ماڈلز پر لاگو ہو گی۔ اس کے علاوہ 26 دیگر ماڈلز کو 1500 یورو کی رعایت دی جائے گی۔
یہ رعایت صرف ان گاڑیوں پر دی جائے گی جن کی قیمت 37000 یورو یا اس سے کم ہے۔
برطانوی ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر نے کہا ہے کہ ’ہم عوام کو مالی سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ آسانی سے اور کم خرچ میں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہو سکیں۔ ہماری سکیمز مارکیٹ میں مقابلے کو فروغ ، معیشت کو تقویت اور روزگار و مہارتوں کو بڑھا رہی ہیں۔‘

یہ اضافہ یورپ کے بڑے ممالک ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں تیزی سے ممکن ہوا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

دوسری جانب سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (ایس ایم ایم ٹی) کے مطابق جولائی میں مسلسل دوسرے مہینے برطانیہ میں گاڑیوں کی پیداوار میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم ایس ایس ایم ٹی کے چیف ایگزیکٹو مائیک ہاوز نے خبردار کیا کہ مارکیٹ میں اس وقت غیریقینی صورتحال ہے، صارفین کا اعتماد متزلزل ہے، تجارتی بہاؤ میں اتار چڑھاؤ ہے اور نئی ٹیکنالوجیز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری ہے۔
اے سی ای اے کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے پہلے سات ماہ میں یورپ میں 10 لاکھ نئی بیٹری الیکٹرک گاڑیاں رجسٹر ہوئیں جو یورپی مارکیٹ کا 15 اعشاریہ چھ فیصد حصہ بنتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں زیادہ مقبول رہیں جن کی فروخت 22 لاکھ 55 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی۔

سنہ 2025 کے پہلے سات ماہ میں یورپ میں 10 لاکھ نئی بیٹری الیکٹرک گاڑیاں رجسٹر ہوئیں (بی وائی ڈی ، یورپ)

یہ اضافہ یورپ کے بڑے ممالک ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں تیزی سے ممکن ہوا ہے۔ فرانس الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ساڑھے 30 فیصد، سپین میں 30 اعشاریہ دو فیصد، جرمنی 10 اعشاریہ سات فیصد اور اٹلی نو اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اے سی ای اے کی ڈائریکٹر جنرل سگریڈ ڈی وریز نے کہا  ہے کہ یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے پبلک چارجنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دینا، چارجنگ کی قیمتوں کو کم کرنا اور خریداری پر رعایت کی سکیموں کو بہتر انداز میں ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

 

شیئر: