Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں شرح پیدائش میں کمی: ہر خاندان تین بچے پیدا کرے، آر ایس ایس

موہن بھاگوت نے کہا کہ ’آبادی کو کنٹرول میں لیکن کافی رہنا چاہیے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کی متنازع ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک کے ہر خاندان میں تین بچے پیدا ہونے چاہییں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ نے شرح پیدائش میں کمی کے رجحان کے مدنظر طویل مدتی خطرات سے خبرار کیا ہے۔
تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی پر مشتمل انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق شرح پیدائش فی کس عورت میں دو بچوں کی پیدائش کی متبادل سطح سے کم ہو گئی ہے۔ (متبادل سطح وہ ہوتی ہے جس پر نئی پیدائشیں مستحکم آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں)
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ’آبادی کو کنٹرول میں لیکن کافی رہنا چاہیے۔‘
جمعرات کو آر ایس ایس کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ ’قومی مفاد میں ہر خاندان کو تین بچے پیدا کرنے چاہییں۔‘
سخت گیر ہندو گروپوں نے مسلمانوں جیسے اقلیتی گروپوں میں زیادہ شرح پیدائش کی شرح کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ حالانکہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا کے مسلمانوں میں بھی ماضی کے مقابلے میں کم بچے پیدا ہو رہے ہیں۔

تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی پر مشتمل انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)

موہن بھاگوت نے بھی کہا کہ مذہبی گروہوں میں شرح پیدائش کم ہو رہی ہے۔
اگرچہ آر ایس ایس سرکاری طور پر خود کو ہندو اقدار کو فروغ دینے والی ایک ثقافتی تنظیم کے طور پر بیان کرتی ہے لیکن یہ اپنے پیروکاروں اور رضاکاروں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
نریندر مودی کے کئی سینیئر وزراء بشمول وزیراعظم خود آر ایس ایس کے طویل عرصے سے رکن ہیں۔
موہن بھاگوت نے اس تنقید کو مسترد کر دیا کہ آر ایس ایس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے آباؤ اجداد اور ثقافت ایک جیسے ہیں۔ عبادت کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہماری شناخت ایک ہے۔ مذہب تبدیل کرنے سے کسی کی برادری نہیں بدلتی۔‘

 

شیئر: