Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نان پی ٹی اے آئی فون میں سم چلنے کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے اکثر نان پی ٹی اے آئی فونز پر سمز کام کر رہی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں مہنگے فلیگ شپ فونز خاص کر ایپل کے آئی فون کا نام لیا جائے تو بھاری پے ٹی اے ٹیکسز کا ذکر بھی ہوتا ہے۔
آئی  فون کی زیادہ قیمت ادا کرنے کے بعد کم ہی لوگ اس کو پی ٹی اے اپروو کرواتے ہیں اور یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پی ٹی اے نے ٹیکس ضرورت سے زیادہ رکھا ہوا ہے۔
ایک جانب پی ٹی اے صارفین سے تلقین کرتا ہے کہ صرف پی ٹی اے سے تصدیق شدہ فونز ہی خریدیں اور جے وی یا کلونڈ فون کی خریداری غیر قانونی ہے۔
جے وی اور کلوننڈ فونز کے برعکس نان پی ٹی اے فونز کچھ مختلف ہیں لیکن سم ان میں بھی کام نہیں کرتی۔
گزشتہ چند روز میں سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں کچھ دکاندار سمیت عام صارفین یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ نان پی ٹی اے آئی فون میں سمز کام کرنے لگی ہیں۔
ان دعوؤں کے ساتھ ساتھ متعدد لوگ یہ بھی سوال کرتے دکھائی دیے کہ کیا پی ٹی اے نے ٹیکس ختم کر دیا یا سیلاب کی صورتحال کے باعث نان  پی ٹی اے فون میں سم چلانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے؟
ماضی میں بھی متعدد لوگ یہ دعوے کرتے دیکھے گئے ہیں کہ ان کی سم نان پی ٹی آئی فونز میں کام کر رہی ہیں۔ اکثر کنٹینٹ کریئٹرز لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے منفرد حربے دکھاتے بھی پائے گئے کہ نان پی ٹی فونز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کیسے سم چلائی جا سکتی ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Cell Links (@celllinkspk)

ٹیکنالوجی کوئی بھی ہو جب بھی اس کا استعمال کیا جائے یا چھیڑ چھاڑ کی جائے تو امکانات ہوتے ہیں کہ ان میں کسی قسم کا گلچ آ جائے اور سم چلنے بھی لگے مگر اس بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ نان پی ٹی اے فونز میں سم مستقل طور پر چلے گی۔
موبائل مارکیٹس میں سافٹ ویئرز کا کام کرنے والے متعدد دکاندار بھی ڈھکے چھپے انداز میں یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہمیں تھوڑی سی رقم ادا کریں اور ہم آپ کے نان پی ٹی اے فونز میں بغیر کوئی پیچ یا کلون کیے سم چلا دیں گے۔
اسے عام فہم زبان میں لوگ ’جگاڑ‘ کا نام دیتے ہیں مگر واضح رہے ان طریقوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کچھ سیکنڈز کے لیے کسی نان پی ٹی اے فون نے گلچ کے ذریعے سگنل پکڑ بھی لیے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اس میں میسجز کالز یا موبائل ڈیٹا کام کرے گا۔
دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی بار بار اپنی آگاہی مہم میں اعلان کر چکی ہے کہ فون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا اور ان کے آئی ایم ای آئز میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جرم ہے۔ اس حوالے سے جے وی اور کلونڈ فون بیچنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔
تاہم اب سوشل میڈیا پر دوبارہ سے جب لوگ دعوے کرتے دیکھے گئے کہ ان کے نان پی ٹی اے فونز میں سمز چل رہی ہیں تو اردو نیوز نے پی ٹی اے سے رابطہ کر کے اس بات کی حقیقت پتا کی۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کیے جانے والے یہ تمام دعوے جھوٹے ہیں، نا کوئی پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی سمز چلنے کا دعویٰ کسی ریلیف کا حصہ ہے۔
اور جو لوگ اس ممکنہ گلچ کو سیلاب کی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں شاید وہ اس کو پی ٹی اے کے سیلاب زدہ علاقوں میں مفت کالز سروس فراہم کرنے کے اعلان سے جوڑ رہے ہیں۔
جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں گلچ ہو جانا معمولی بات ہے مگر اس پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ کر لینا غلط ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ متعدد بار مختلف نون پی ٹی اے فونز میں سمز چلتی دیکھی گئیں ہیں اور بعد میں بند بھی ہو جایا کرتی ہیں، تاہم اس کو وقتی طور پر سسٹم کی تکنیکی غلطی کہا جا سکتا ہے۔

شیئر: