پاکستان میں حالیہ بارشوں اور انڈیا کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے دریاؤں کے بند اور پشتوں پر مختلف جگہوں سے شگاف ڈالے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ نقصان سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں
جمعے کو جھنگ شہر کے قریب دریائے چناب پر واقع ریواز پُل کے قریب بند میں شگاف ڈالا گیا تاکہ شہر کو سیلاب سے بچایا جا سکے۔
جھنگ شہر اور ریواز پُل کو بچانے کے لیے حکام نے موضع ننکانہ ریلوے لائن کے پاس بند کو بارودی مواد سے اُڑایا تاکہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کو کم کیا جا سکے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے ایک بیان میں بتایا کہ ’جھنگ شہر کو سیلاب سے محفوظ کرنے کے لیے ریواز پل کے قریب شگاف ڈالا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنایا گیا ہے۔‘
ریلیف کمشنر نے فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور تمام افسران کو فیلڈ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ غلط خبر پھیل گئی کہ جھنگ شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے شاید تاریخی ریواز پُل کو اُڑا دیا گیا ہے، تاہم جھنگ کے ضلعی انفارمیشن آفیسر نے ایک وضاحتی بیان میں اس کی تردید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ریواز پل میں شگاف نہیں ڈالا گیا بلکہ موضع ننکانہ ریلوے لائن کے پاس بند میں شگاف ڈالا گیا ہے جو ریواز پُل سے تین کلومیٹر دور ہے۔‘
جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیےملک کے تاریخی پل کو اڑانے کا فیصلہ
ریواز پل (چنڈ پل)
اب جھنگ اور چنیوٹ کو ممکنہ سیلابی خطرات سے بچانے کے لیے اس پل کو توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یوں ایک ایسا باب اختتام پذیر ہو رہا ہے جو برصغیر کی تعمیراتی تاریخ اور پاکستان کی ورثہ کہانی کا حصہ… pic.twitter.com/To4KCHsuJi
— Syed Raza Ali Bukhari (@razasyed079) August 29, 2025
ریواز پُل
ریواز پُل کو مقامی طور پر چند پل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ریواز پُل دریائے چناب پر واقع ہے اور یہ پاکستان کے قدیم ترین پلوں میں سے ایک ہے۔ ریواز پُل کو سنہ 1905 میں برطانوی راج کے دوران برطانوی انجینئرز نے تعمیر کیا تھا۔
