سندھ کے ضلع دادو کے رہائشی نوید باٹ کے لیے 2010 کے سیلاب کی یادیں تازہ ہیں۔ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور پورے گاؤں کے لوگ پانی میں گھر گئے تھے۔ نوید اور اس کے اہل خانہ نے کئی ہفتے سکول میں قائم کیمپ میں گزارے اور اب جب دوبارہ سیلاب کی خبریں آ رہی ہیں تو وہ پریشان ہیں۔
نوید باٹ کہتے ہیں کہ ’ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا، اب دوبارہ وہی منظر دیکھنے کا خوف ہے۔‘ وہ اپنے گھر سے ضروری سامان منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، وہ خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
اسی طرح سندھ کے علاقے ٹھٹہ کی رہائشی نوری بی بی بھی خوفزدہ ہیں۔ پچھلے سیلاب کے دوران ان کا گھر اور کھیت مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اب ہر بارش ہم خوف میں گزارتے ہیں، بچوں کی حفاظت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
سیلاب کے موسم میں جارحانہ سیاست! اجمل جامی کا کالمNode ID: 893872
ایسے کئی متاثرین ہیں جو گزشتہ تجربات کی وجہ سے اس سال بھی ممکنہ سیلاب کے خوف میں مبتلا ہیں۔
حکومت کی تیاری اور اقدامات
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور چیف سیکریٹری آصف حیدر نے صوبے میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ تین ترجمانوں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ 24/7 مانیٹرنگ، کنٹرول رومز کا قیام اور تمام ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ لازمی خدمات فراہم کرنے والے محکموں آبپاشی، بلدیات، صحت، پولیس، پبلک ہیلتھ، لائیو سٹاک اور فیلڈ افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔
چیف سیکریٹری سندھ نے اجلاس میں ہدایت کی کہ محکمہ صحت کی جانب سے ملیریا اور دیگر آبی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ادویات اور ویکسین کی فراہمی بلا تعطل جاری رہنی چاہیے۔ ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی تمام دستیاب کشتیوں، ریسکیو آلات، خیموں، ادویات اور دیگر سامان کی تفصیلات فوری طور پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت استعمال ممکن ہو سکے۔
تاریخی تناظر اور ماضی کا سبق
ماہرین کے مطابق تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو سندھ میں آنے والے سیلاب ہمیشہ خطرناک رہے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد دریائے سندھ میں آنے والے سیلابوں میں 2010 کا سیلاب زیادہ تباہ کن تھا، جب پانی کا اخراج 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا۔
2010 کے سیلاب کے دوران دریائے سندھ کے ملحقہ علاقوں میں تباہی ہوئی۔ تاہم موجودہ سیلابی صورتحال کچھ حد تک مختلف ہے کیونکہ مون سون کی بارشوں نے پہلے ہی بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں تباہی مچا رکھی ہے، اور بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں سے مزید پانی سندھ میں داخل ہو کر زیریں علاقوں میں نقصان بڑھا رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ گھروں کی چھتیں ٹوٹ گئی ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ دادو کے نوید باٹ اور ٹھٹہ کی نوری بی بی جیسی کئی خواتین، بچے اور بزرگ اس خوف و پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں جو گزشتہ تجربات نے ان کے دل میں چھوڑا ہے۔
حکومت سندھ کی حکمت عملی
حکومت سندھ نے عوام کی حفاظت کے لیے وزراء کو فوکل پرسنز کے طور پر نامزد کیا ہے تاکہ دریائے سندھ کے کنارے والے علاقوں میں نگرانی ہو اور سیلابی خطرات کی رپورٹ وزیراعلیٰ تک پہنچائی جا سکے۔ گڈو سے سکھر تک ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مکیش کمار چاؤلہ دائیں کنارے جبکہ زراعت، کھیل اور امور نوجوانان کے وزیر سردار محمد بخش مہر بائیں کنارے کے فوکل پرسن مقرر کیے گئے ہیں۔
اسی طرح سکھر سے کوٹری تک صنعت و تجارت کے وزیر جام اکرام اللہ خان دھاریجو دائیں کنارے اور توانائی و منصوبہ بندی کے وزیر سید ناصر حسین شاہ بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔
سندھ کے نیچے والے علاقوں میں مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر کے وزیر ریاض حسین شاہ شیرازی دائیں کنارے اور لائیو سٹاک و فشریز کے وزیر محمد علی ملکانی بائیں کنارے کے فوکل پرسن مقرر کیے گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی ایز) کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے حلقوں میں موجود رہیں اور فوکل پرسنز سے قریبی رابطے میں رہیں تاکہ دریا کے کنارے والے اضلاع میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
