پاکستان میں محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر چاروں صوبوں کے متعدد شہروں اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
جمعرات کی شب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں جمعے سے پیر تک بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں
-
سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کو ’مِنی ملائیشیا‘ کیوں کہا جاتا ہے؟Node ID: 893574
’شمالی اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین جبکہ وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب آںے کا خطرہ رہے گا۔‘
محکمے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 29 تا 31 اگست کے دوران شدید بارشیں، ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
’چترال، دیر، سوات، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں میں تیز بارش متوقع ہے۔‘
کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور، بھمبرمیں 29 اگست تا 2 ستمبر کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان میں 29 تا 31 اگست تک بارشیں متوقع ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ ہے۔
سندھ کے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر میں 30 اگست تا 2 ستمبر کے دوران بارشیں متوقع ہیں جبکہ کراچی میں ممکنہ شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

اندرون سندھ کے اضلاع بشمول حیدرآباد، دادو، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور میں 30 اگست تا یکم ستمبر موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔
بلوچستان کے ساحلی و مشرقی اضلاع بشمول گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ، قلات میں 29 اگست تا یکم ستمبر تک بارشوں کا امکان اور نشیبی علاقوں سیلاب کا خدشہ ہے۔
ادھر پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ممکنہ مزید بارشوں کے نتیجے میں دریائے راوی، ستلج اور چناب کے ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال میں مزید شدت متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق راوی سائفن پر پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے۔ ’شاہدرہ پر 2 لاکھ 19 ہزار کیوسک ریکارڈ بہاؤ مستحکم اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔‘