Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈکی بھائی کے خلاف منی لانڈرنگ تحقیقات کا باقاعدہ آغاز، اقرا کنول سمیت دیگر انفلوئنسرز بھی طلب

قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ آن لائن جوا اور غیر رجسٹرڈ انویسٹمنٹ ایپس کے ذریعے مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی تفتیش کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری نوٹسز کے مطابق جن افراد کو لاہور زون میں طلب کیا گیا ہے ان میں اقرا کنول، محمد انس علی، محمد حسنین شاہ اور مدثر حسن شامل ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ وہ آن لائن ٹریڈنگ اور جوا ایپس کے ذریعے نوجوانوں کو غیر قانونی سرمایہ کاری پر اُکسا رہے تھے اور سادہ لوح شہریوں کو غیر رجسٹرڈ اور غیر لائسنس یافتہ ایپس کے ذریعے لوٹنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ٹھوس شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کو 2 ستمبر کو این سی سی آئی اے لاہور آفس میں طلب کیا گیا ہے تاکہ ان کا موقف ریکارڈ کیا جا سکے۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ ملزمان کے پاس اپنے دفاع میں کچھ کہنے کو نہیں ہے۔
یہ کارروائی حکومت پاکستان کی حالیہ قانون سازی کے تحت کی جا رہی ہے۔
26 اگست کو وزارتِ خزانہ نے ایک گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے این سی سی آئی اے کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت تحقیقات اور پراسیکیوشن کا اختیار دے دیا ہے۔
اس ترمیم کے بعد الیکٹرانک جرائم جیسے آن لائن فراڈ، سوشل میڈیا کے ذریعے غیر قانونی سرمایہ کاری اور جھوٹی معلومات پھیلانے کو بھی اسی قانون میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ڈکی بھائی کو چند روز قبل ہی سائبر کرائم حکام نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں انہیں جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کیا گیا۔ اب ان کے خلاف باقاعدہ منی لانڈرنگ انکوائری شروع کر دی گئی ہے، جو اس نوعیت کی سب سے بڑی کارروائی تصور کی جا رہی ہے۔
این سی سی آئی اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آن لائن جوا، فاریکس اور انویسٹمنٹ ایپس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ٹھوس شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں اور ملوث سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق نوجوانوں کو لوٹنے والے اس دھندے میں ملوث ہر فرد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 

شیئر: