پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف چھ روزہ دورے پر چین پہنچنے ہیں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس شرکت کریں گے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں پرائم منسٹر آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ چین کے شہر تیانجن پہنچے۔
شہباز شریف چار ستمبر تک جاری رہنے والے اس دورے میں چین کے صدر شی جنپنگ، وزیراعظم لی کیانگ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
مزید پڑھیں
چین طویل عرصے سے پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ کار اور اس کا سب سے قریبی سٹریٹجک اتحادی ہے، جو کہ ملٹی بلین ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے منسلک ہے۔ دونوں ملک صنعت کاری، زراعت، توانائی اور رابطے پر مرکوز سی پیک فیز 2 میں آگے بڑھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سنیچر کی صبح ایکس پر لکھا کہ ’چین کے تاریخی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، تیانجن میں ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ میں چین کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جنپنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کا منتظر ہوں۔‘
چین نے طویل عرصے سے ایس سی او کو مغربی زیرقیادت پاور بلاکس کے مقابلے میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور تنظیم نے اپنے 10 ارکان کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
چین کے نائب وزیر خارجہ لیو بن نے جمعے کو کہا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت 20 سے زائد غیرملکی رہنما علاقائی سلامتی کی اس تنظیم کے قیام کے بعد سے ہونے والے اس سب سے بڑے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

رکن ممالک اور مہمان ممالک جیسے بیلاروس، ایران، قازقستان، پاکستان، ترکی اور ویتنام کے سرکردہ سیاستدان بھی حصہ لینے والوں میں شامل ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے قبل ازیں کہا تھا کہ صدر شی جنپنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتیں پاک چین دوطرفہ تعاون کی کثیر جہتی جہتوں پر مرکوز ہوں گی۔
سنیچر کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا چین پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ چین کے ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی بھی تیانجن پہنچے جہاں اُن کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔