سعودی عرب میں ’لٹریچر پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن‘ کے تحت دوسرے ’لِٹریری کریٹیو‘ مقابلے میں جیتنے والوں کا اعلان ریاض میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ان مقابلوں میں لٹریچر کے چار شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھانے پر اعزازات دیے گیے۔ اس کا مقصد ٹیلنٹ کی ترقی کو آگے بڑھانا اور بہترین صلاحیتوں کو اجاگر ہے۔
مزید پڑھیں
-
عرب ٹرانسلیشن آبزرویٹری کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطNode ID: 713246
کمیشن کے سی ای او عبدالطیف الواصل نے کنگ فہد کلچرل سینٹر میں ہونے والی تقریب کی صدارت کی۔ انھوں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ کمیشن ’سعودی ادب کی ترقی کے لیے یونیورسٹی کی سطح پر ٹیلنٹ کی لازمی نشو و نما کا پابند ہے۔‘
انھوں نے ادبی مقابلوں کو ’طلبہ کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم قرار دیا جہاں وہ اپنے نظریات دوسرے تک شیئر کر سکتے ہیں، ادبی مہارتوں کو بڑھا سکتے ہیں اور لٹریچر کے مختلف شعبوں میں ابھرتے ہوئے تخلیق کاروں کے لیے جذبۂ محرکہ بن سکتے ہیں۔‘
الواصل نے کمیشن اور تعلیمی اداروں کے درمیان مل کر کام کرنے کی کوششوں کا خاص طور پر ذکر کیا جن سے ادبی پیشرفت کو تعاون ملتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ’ اعزازات پانے والے ’مستقبل کی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں اور سعودی ادب کے ثقافتی اثر کو مزید طاقتور بناتے ہیں۔‘

انہوں نے وزیرِ ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی تعریف کی جو کمیشن کے چیئرمین ہیں اور کہا کہ ثقافتی شعبے میں چیئرمین نے مسلسل تعاون کیا ہے۔
کمیش کے سی ای او نے ادب کی ہر کیٹیگری میں سرِفہرست آنے والے تین افراد میں اعزازات دیے اور ہر کیٹیگری میں ایک اعشاریہ دو ملین سعودی ریال کے انعامات بھی تقسیم کیے۔
ہر کیٹیگری میں پہلی پوزیشن پر آنے والے کو ڈیڑھ لاکھ سعودی ریال دیے گئے جبکہ دوسری پوزیشن کے لیے ایک لاکھ ریال اور تیسری پوزیشن کے لیے 50 ہزار سعودی ریال کی انعامی رقم دی گئی۔

کلاسیکی شاعری کے شعبے میں احمد الترکی نے پہلی جبکہ لؤی المکرمی اور فیصل القیصی نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
’الشعر النبطی‘ کی کیٹیگری میں ھانی العتیبی کامیاب رہے جبکہ متعب السلیمی دوسرے اور عبداللہ الحارثی تیسرے نمبر پر آئے۔
ناول کی کیٹیگری میں امیرہ السبیعی پہلے، زینب القیصوم دوسرے جبکہ مہدی العبد اللطیف تیسرے نمبر پر رہے۔
افسانے کی کیٹیگری میں ریحانہ السعدان کی پہلی پوزیشن تھی جبکہ فاطمہ الدرویش کی دوسری اور رعنا الجھنی کی تیسری پوزیشن رہی۔
’لٹریری کریٹیو کمیشن‘ کے مقابلے ظاہر کرتے ہیں کہ کمیشن سعودی عرب کے ادبی منظر کو پھر سے توانا کرنا چاہتا ہے اور تخلیقی تحریر کے مختلف شعبوں میں ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو ایک جگہ جمع کر کے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔
’ کمیشن ثقافتی ورثے کے لیے تعاون بھی فراہم کر رہا ہے اور ادب کو معاشرے کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے بھی کوششوں میں مصروف ہے جس سے عالمی ادب میں مملکت کی موجودگی اور ثقافتی اثر کو تقویت ملے گی۔