آئیے حقیقت پسند بنیں، جو عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں وہ انہیں نہیں توڑیں گے اور جن ممالک میں واشنگٹن کے فوجی اڈے ہیں وہ انہیں بند نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں
مصر گیس درآمد کے معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا اور ابو مازن بھی رام اللہ میں اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔ یہ سب بڑے سیاسی اخراجات ہیں اور اگر ممالک یہ قربانی بھی دیں تو نہ انہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کو اس کے بدلے کوئی رعایت یا فتح حاصل ہوگی۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا، اس لیے ہمیں اپنی توقعات کو عملی سیاسی دائرے میں ممکنات پر استوار کرنا چاہیے، غیر حقیقت پسندانہ باتوں پر نہیں۔
آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی عمارت میں ’دو ریاستی حل‘ کے عنوان سے ہنگامہ خیز اجلاس ہوں گے اور پھر سعودی منصوبے کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہے گی جو فلسطینی ریاست کو ایک قانونی وجود فراہم کرے گا، چاہے اسرائیل اسے مسترد کر دے۔
اڈے بند کرنے اور تعلقات کاٹنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ یہ ممالک بڑھتی ہوئی سرگرمی کی حمایت کریں تاکہ دو ریاستی حل ایک ناگزیر عالمی مطالبہ بن جائے، جس کی تائید اسرائیل کے اتحادی اور دوست بھی کریں جیسا کہ فرانسیسیوں نے کیا اور برطانیہ و جرمنی نے وعدہ کیا۔
امن پسند حل کی جانب مشترکہ کوشش، جنگ کے حامیوں کے اتحاد سے زیادہ مؤثر ہے۔
تاریخی اعتبار سے جنگ کے حامی تجزیہ نگاروں کی ہرزہ سرائیوں کے برخلاف، سفارتی اقدامات اور امن منصوبے عملی نتائج دے چکے ہیں۔
کیمپ ڈیوڈ نے مصر کو پورا صحرائے سینا اور نہرِ سویز واپس دلایا اور نصف صدی کے قریب امن و استحکام دیا۔
اوسلو اپنی تمام خامیوں کے باوجود، ہزاروں فلسطینیوں کو تیونس اور یمن کی جلاوطنی سے واپس مغربی کنارے لایا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو شاید آج فلسطینی ریاست کی بات بھی ممکن نہ ہوتی۔

اس کے برعکس مسلح تنظیمیں، چاہے وہ حماس (اخوانی اسلام پسند) ہو، الجبهة الشعبيہ(قوم پرست بائیں بازو کی)، الجبهة الديمقراطيہ (مارکسی)، جبهة التحرير العربيہ (بعثی)، یا ابو العباس کی ’جبهة التحرير‘ (جس نے بحری جہاز اغوا کیا)، ابو نضال، کارلوس وینیزویلا کا نیٹ ورک اور معاون تنظیمیں جیسے جاپانی ریڈ آرمی اور اطالوی ریڈ بریگیڈز، کسی قابلِ ذکر کامیابی تک نہ پہنچ سکیں۔
اسی طرح وہ حکومتیں بھی، جو فوجی مقابلوں کے وعدوں پر زندہ رہیں، مثلاً صدام، اسد اور قذافی، فلسطین کا ایک انچ بھی آزاد نہ کر سکیں۔
آج انتہاپسندوں کے کیمپ کی بڑی شکستیں حزب اللہ، ایران، حوثی اور خطے کے دیگر فلسطینی مسئلے کے ساتھ عقلی رویے اور جو کچھ بچایا جا سکتا ہے اسے بچانے کے امکان کو زندہ کریں گی۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، نتن یاہو وعدوں کا پابند نہیں اور دوحہ پر اس کا حملہ حیران کن نہیں تھا۔ ابھی تک سات اکتوبر کے اثرات اسرائیلی خارجہ پالیسی کا بنیادی محرک اور سمت نما ہیں حالانکہ اس کو دو برس گزر گئے ہیں۔
اسرائیل کی فوجی کامیابیاں بے حد بڑی ہیں اور وہ مزید کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ایران، جسے ہم ایک بڑی قوت سمجھتے تھے، جس کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور ملیشیاؤں کی فوجیں تھیں، آج صرف سرکاری بیانات تک محدود رہ گیا ہے۔
اسرائیل جنگی میدان کو ترجیح دیتا ہے اور سیاسی مقابلوں سے خوفزدہ ہے کیونکہ جنگ میں وہ فتحیاب رہتا ہے اور اس کی برتری پر کوئی شکوک نہیں۔ جنگیں اس کا پسندیدہ میدان ہیں لیکن سیاست وہ میدان ہے جو اسے سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے، دو وجوہ کی بنا پر:
اوّل، امریکی انتظامیہ کی حمایت کے باوجود وہ سفارتی محاذوں پر یقینی تائید حاصل نہیں کر سکتا۔










