Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ کا دورۂ غزہ، حماس کا غیرمسلح ہونے سے انکار

امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ انہوں نے غزہ کا دورہ کیا تاکہ جنگ کے بعد استحکام سے متعلق معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی علاقے میں کسی بھی امریکی فوجی کی تعیناتی نہیں کی جائے گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ حال ہی میں غزہ کے دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے ایک ایسے ’سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر‘ کے قیام پر بات کی جو سینٹکام کی قیادت میں کام کرے گا اور جنگ کے بعد استحکام کی کوششوں میں معاونت فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان سیزفائر کی نگرانی کے لیے امریکی افواج کی ابتدائی تعیناتی شروع ہو گئی ہے، اور 200 امریکی فوجی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔
امریکی فوج اس مشن کے لیے ایک ملٹی نیشنل ٹاسک فورس کی قیادت کرے گی، جو غزہ میں تعینات کی جائے گی۔ اس فورس میں ممکنہ طور پر مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے۔
ایڈمرل کوپر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے بیٹے اور بیٹیاں اس تاریخی لمحے میں مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سپریم کمانڈر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو اگست کے اوائل میں امریکی سینٹکام کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ سینٹکام مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کا ذمہ دار کمانڈ سینٹر ہے۔

’ہتھیار ڈالنے کی شق ناقابل قبول‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کے تحت حماس کو غیرمسلح کرنے کی شق کو حماس نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
حماس کے ایک اعلٰی عہدیدار نے سنیچر کو فرانسیسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہتھیار ڈالنے کی مجوزہ شرط ناقابل قبول ہے اور اس پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔‘
صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں زیرِغور آئے گا۔
20 نکاتی امن منصوبے میں ان حماس ارکان کے لیے عام معافی کی پیشکش کی گئی ہے جو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے، اور انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ بھی شامل ہے۔
حماس کے عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، اور پیر کو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن ختم ہونے والی ہے۔ یہ یرغمالی حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے قید میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں زیرِغور آئے گا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگرچہ گذشتہ دو برس سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں، لیکن حماس کو غیرمسلح کرنے اور اسرائیلی افواج کی واپسی جیسے نکات صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

 

شیئر: