پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین قطر میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اتوار کی صبح ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔ 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ہو گی اور تفصیلی معاملات پر بات ہو گی۔‘
مزید پڑھیں
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم قطر اور ترکیہ دونوں برادر ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔‘
اس کے علاوہ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی اتوار ہی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا ایک دور دوحہ میں منعقد ہوا جس میں ریاستِ قطر اور جمہوریہ ترکیہ نے ثالثی کی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران فریقین نے فوری جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن اور استحکام کو مستحکم کرنے کے لیے طریقہ کار کے قیام پر اتفاق کیا۔‘
Statement | Pakistan and Afghanistan Agree to an Immediate Ceasefire During a Round of Negotiations in Doha#MOFAQatar pic.twitter.com/fPXvn6GaU6
— Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) October 18, 2025
’فریقین نے آنے والے دنوں میں فالو اپ میٹنگز منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ جنگ بندی کے پائیداری کو یقینی بنایا جائے اور ایک قابلِ اعتماد اور مستحکم طریقے سے اس کے نفاذ کی تصدیق کی جا سکے، اس طرح دونوں ممالک میں سکیورٹی اور استحکام کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔‘
وزارت خارجہ نے ریاستِ قطر کی اُمید کا اظہار کیا کہ یہ اہم قدم دونوں برادر ممالک کے درمیان سرحد پر جاری تناؤ کو ختم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔‘
تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے: ذبیح اللہ مجاہد
افغان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم قطر اور ترکی کی برادر اقوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جو اس معاہدے کا سبب بنے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’معاہدے کی شرائط کے تحت فریقین نے ایک مرتبہ پھر امن، باہمی احترام اور مضبوط و تعمیری ہمسایہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘
’فریقین نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ وہ مسائل اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ ایک جامع اور بامقصد جنگ بندی پر باہمی طور پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔‘
سرحدی علاقوں میں کئی دن کی شدید جھڑپوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سطح کے وفود سنیچر کو مذاکرات کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تھے۔
مذاکرات کرنے والے ان وفود کی سربراہی پاکستان اور افغانستان کے وزراء دفاع خواجہ محمد آصف اور ملا محمد یعقوب مجاہد کر رہے تھے۔
’طالبان رجیم دہشت گردوں کو لگام ڈالے: فیلڈ مارشل عاصم منیر
اس سے قبل جمعے کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا تھا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہم افغان عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ تشدد اور حقائق چھپانے پر مشترکہ استحکام اور ترقی کو ترجیح دیں۔‘













