Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی فلسطینی علاقے کے انضمام سے متعلق اسرائیلی قوانین کی شدید مذمت

بیان میں غیرقانونی آباد کاری کی پالیسوں کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری مسلط کرنے اورغیرقانونی اسرائیلی بستی کو قانونی حثیت دینے سے متعلق جاری ہونے والے قوانین کی منظوری پر شدید مذمت اوراحتجاج کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے اختیار کی جانے والی تمام ترتوسیع پسندانہ اقدامات اورغیرقانونی آباد کاری کی پالیسوں کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں۔‘
’ سعودی عرب اپنے برادر فلسطینی عوام کے اس آزاد ریاست کے قیام جس کی سرحدیں 1967 کے مطابق ہوں کے جائز اور تاریخی حق کی بھی بھرپور حمایت کرتا ہے جو متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں میں طے کیا گیا ہے۔‘
بیان میں عالمی برادری پر زوردیا گیا کہ’ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور اسرائیل کی فلسطینی سرزمین و عوام کے خلاف مسلسل زیادتیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔‘
اس بات پر بھی زوردیا گیا کہ’ خطے میں امن و استحکام کےلیے دو ریاستی حل کے نفاذ کے سلسلے میں سنجیدگی سے پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔‘
واضح رہے کہ اسرائیلی قانون سازوں نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے حق میں دو بلز کی ابتدائی منظوری دی ہے۔

 مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے حق میں دو بلز کی ابتدائی منظوری دی گئی ہے ( فوٹو: اے ایف پی)

حالیہ مہینوں میں دائیں بازو کے سخت گیر وزراء مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضام کی اپنی دیرینہ خواہش کا تسلسل کے ساتھ اظہار کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے اگست میں اسرائیل نے ایک بڑا منصوبہ منظور کیا تھا جس کے تحت معالی ادومیم اور یروشلم کے درمیان یہودی آبادیاں بنائی جائیں گی۔ یہ علاقہ فلسطینی سرزمین پر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے کہا ہے کہ اس سے مستقبل میں فلسطینی ریاست بننے کا امکان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

 

شیئر: