پنجاب اسمبلی نے مقامی حکومتوں کو مستقل آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کیوں کیا؟
پنجاب اسمبلی نے مقامی حکومتوں کو مستقل آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کیوں کیا؟
جمعہ 31 اکتوبر 2025 14:49
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
قرارداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کو ضلعی یا تحصیل کونسل کی تحلیل کے 90 دن کے اندر کرانا لازمی قرار دیا جائے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب اسمبلی نے مقامی حکومتوں کو مستقل اور بااختیار بنانے کے لیے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے میں ترمیم کی سفارش کرنے والی قرارداد وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ یہ قرارداد اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں 29 اکتوبر کو متفقہ طور پر منظور کی گئی جسے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سیکریٹریز کو بھی بھیجا گیا۔
قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن احمد اقبال اور پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ اس کا مقصد بلدیاتی اداروں کی مدت، اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہوئے آئین میں ایک نیا باب شامل کرنا ہے۔
قرارداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کو ضلعی یا تحصیل کونسل کی تحلیل کے 90 دن کے اندر کرانا لازمی قرار دیا جائے جبکہ منتخب نمائندوں کو 21 دن کے اندر پہلا اجلاس بلانے کا پابند بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل ہو سکیں۔
قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد پنجاب میں بلدیاتی ادارے صرف دو سال تک ہی فعال رہ سکے، جس سے جمہوری تسلسل متاثر ہوا۔ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ مقامی حکومتیں جمہوریت کا بنیادی ستون ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2022 میں آرٹیکل 140-اے میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔
جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے ایک پریس کانفرنس میں بلدیاتی ایکٹ کو آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد ضلعی حکومتوں کی مدت کے تحفظ اور نئی آئینی ترمیم کی سفارش کرتی ہے، جس کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50 سالوں کے دوران مقامی حکومتوں کا کوئی مستحکم وجود نہیں رہا، اور مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس ترمیم کی حمایت کرنی چاہیے۔ سپیکر کے مطابق ’ضلعی حکومتوں کی عدم موجودگی ریاست کے عمرانی معاہدے کو کمزور کرتی ہے، اور ماضی میں صوبائی حکومتیں موثر قانون نہ ہونے کے باعث مقامی ادارے توڑتی رہی ہیں۔‘
آرٹیکل 140-اے کا پس منظر
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-اے، جو 2001 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں شامل کیا گیا، صوبائی حکومتوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔
سپیکر ملک احمد خان نے اسے ’ریاست کی بنیادی ذمہ داری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو اس عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ (فوٹو: اے پی پی)
تاہم، اس آرٹیکل کی تفصیلات صوبائی قوانین پر منحصر ہیں، جس کے باعث بلدیاتی اداروں کی مدت اور اختیارات میں بار بار تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق، موجودہ شکل میں یہ آرٹیکل ناکافی ہے کیونکہ یہ صوبائی حکومتوں کو مقامی نظام ختم کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے تاکہ نچلی سطح پر مستقل جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025: پس منظر اور اثرات
یہ قرارداد پنجاب حکومت کی حالیہ اصلاحاتی کوششوں کا تسلسل ہے۔ مارچ 2025 میں پنجاب اسمبلی نے ’دی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025‘ منظور کیا، جو 12 مارچ کو پاس اور 23 اکتوبر کو نوٹیفائی ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت ضلعی کونسلوں کی جگہ میونسپل کارپوریشنز، ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز اور یونین کونسلوں پر مشتمل نیا ڈھانچہ متعارف کرایا گیا۔
اس قانون کے مطابق مقامی اداروں کو سڑکوں اور عوامی جگہوں کے نام تبدیل کرنے، شہری املاک پر ٹیکس کی وصولی اور منتقلی جیسے اختیارات دیے گئے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایکٹ صوبائی قانون ہے، اس لیے آئینی تحفظ کے بغیر مستقبل کی حکومتیں اسے تبدیل یا منسوخ کر سکتی ہیں، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔
اسی پس منظر میں یہ قرارداد وفاق سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلدیاتی نظام کو آئین میں مستقل جگہ دی جائے تاکہ صوبائی مداخلت روکی جا سکے اور عوامی سہولیات مؤثر طریقے سے فراہم کی جا سکیں۔
سپیکر ملک احمد خان نے اسے ’ریاست کی بنیادی ذمہ داری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو اس عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، اگر وفاق اس سفارش پر عمل کرتا ہے تو پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو تقویت ملے گی، جو ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔