Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کا نوٹیفکیشن واپس، کئی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ معطل

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی تجویز کے تناظر میں کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کا نوٹیفکیشن ایک روز بعد واپس لے لیا ہے۔
سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات کاکڑ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔'
اس سے قبل بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر 12 سے 14 نومبر 2025 تک صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی تھی۔
حکام نے ٹرانسپورٹ مالکان کو ایک سے دوسرے ضلع اور بلوچستان سے باقی صوبوں کے لیے بسیں نہ چلانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ دوسری طرف کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
بلوچستان ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے پیرکو ایک حکم نامے کے ذریعے تمام ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ تاریخوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رکھی جائے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ محکمہ داخلہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے موصول خطوط اور سکیورٹی تجویز کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں اس معاملے کو فوری اور  انتہائی اہم  قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا گیا کہ وہ احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
گوادر کے ڈپٹی کمشنر حمود الرحمان نے بتایا کہ ضلع میں ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گوادر سے دیگر اضلاع یا صوبوں کو جانے والی بسوں کو ان تاریخوں کے دوران نہ چلائیں۔
ادھر کوئٹہ کے نواحی علاقوں سمیت صوبے کے کئی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے شہری علاقوں میں انٹرنیٹ بحال رہے گا  تاہم حساس اور نواحی علاقوں میں سروس آئندہ چند روز تک بند ہوسکتی ہے- 

پولیس افسر کے مطابق 12 اور 13 نومبر کی درمیانی شب حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

صوبائی حکومت نے پہلے ہی بلوچستان بھر میں 30 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے، گاڑیوں کے سیاہ شیشے، غیر رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کے استعمال پر پابندی شامل ہیں۔
اسی طرح اسلحہ کی نمائش یا استعمال، دھماکا خیز مواد اور سلفوریک ایسڈ کی ترسیل، جلسے جلوس اور ریلیاں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔
 محکمہ داخلہ نے تمام پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کور اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ یہ احکامات سختی سے نافذ کیے جائیں۔ محکمہ داخلہ کے اعلامیہ کے مطابق خلاف ورزی پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 سمیت متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کوئٹہ کے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ یہ حفاظتی اقدامات ان انٹیلی جنس رپورٹس کے بعد عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں جن میں کالعدم مسلح تنظیموں کی جانب سے نومبر کے مخصوص ایام میں شاہراہوں پر ناکہ بندی اور بڑے حملوں کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق خاص طور پر 12 اور 13 نومبر کی درمیانی شب حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں، جبکہ 21 نومبر کو کالعدم بی ایل اے کے سابق سربراہ بالاچ مری کی برسی کے موقع پر بھی حملوں کا خدشہ ہے۔

رواں سال اگست میں بھی اسی نوعیت کے خدشات کے پیش نظر خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ بلوچ قوم پرست تنظیمیں 13 نومبر کو خان محراب خان کی قیادت میں 1839 میں برطانوی افواج کے خلاف مزاحمت کی یاد میں ’یوم شہدا بلوچ‘ کے طور پر مناتی ہیں۔ انہی ایام میں ماضی میں حملوں میں شدت دیکھنے میں آتی رہی ہے۔
گذشتہ سال اگست میں نواب اکبر بگٹی کی برسی سے ایک روز قبل صوبے بھر میں درجنوں حملے کیے گئے تھے جن میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں موسیٰ خیل میں بس سے اتار کر قتل کیے گئے 22 مسافر بھی شامل تھے۔
رواں سال اگست میں بھی اسی نوعیت کے خدشات کے پیش نظر خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے جن میں رات کے اوقات میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اور کئی اضلاع میں کئی ہفتوں تک انٹرنیٹ سروس کی بندش شامل تھی۔

 

شیئر: