اوپن اے آئی کے خلاف کاپی رائٹ کیس، جرمن میوزک باڈی کی جیت
اس فیصلے کو یورپ میں مصنوعی ذہانت اور تخلیقی حقوق کے تناظر میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جرمن موسیقی کی نمائندہ تنظیم ’جیما‘ نے مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ جیت لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو میونخ کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے گانوں کے بول استعمال کر کے جرمن کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ زبان کے ماڈلز میں مواد کو ’یاد‘ کرنے اور پھر چیٹ بوٹ کے نتائج میں گانوں کے بولوں کی ری پروڈکشن دونوں ہی کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزیاں ہیں۔‘
یہ مقدمہ جرمن میوزک باڈی ’جیما‘ کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جس کے ارکان میں ایک لاکھ سے زائد کمپوزر، نغمہ نگار اور پبلشرز شامل ہیں۔
اس مقدمے میں ’جیما‘ ان نو جرمن گانوں کے فنکاروں کی نمائندگی کر رہی تھی جن کے حقوق کی اوپن اے آئی کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔
نومبر 2024 میں ’جیما‘ نے مقدمہ دائر کرتے ہوئے اوپن اے آئی پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس نے مصنفین کو لائسنس فیس ادا کیے بغیر اور ان کی اجازت کے بغیر ’منظم طریقے‘ سے ان کے کاپی رائٹ شدہ مواد کو اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔
دوسری طرف اوپن اے آئی نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ان کے زبان کے ماڈلز مخصوص ڈیٹا کو ذخیرہ یا نقل نہیں کرتے بلکہ سیکھنے کے عمل کو اپنی سیٹنگز میں ظاہر کرتے ہیں۔
چیٹ بوٹ کے حوالے سے اوپن اے آئی کا دعویٰ تھا کہ اس کا آؤٹ پٹ تیار کرنے والے صارف خود ہوتے ہیں اور اس کے ذمہ دار بھی وہی ہیں۔
تاہم عدالت نے اوپن اے آئی کا دفاع مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ مدعیان یعنی جیما کے ساتھ منسلک نو فنکار معاوضے کے حق دار ہیں۔
عدالت کے مطابق یہ معاوضہ ’گانوں کے متن کی زبان کے ماڈلز میں ری پروڈکشن اور ان کی آؤٹ پٹ میں ری پروڈکشن‘ دونوں کی بنیاد پر دیا جائے گا۔
اگرچہ اوپن اے آئی کو امریکہ میں میڈیا گروپس اور مصنفین کی طرف سے متعدد مقدمات کا سامنا ہے، جہاں ان پر اجازت کے بغیر کام استعمال کرنے کا الزام ہے لیکن ’جیما‘ کے مطابق میونخ کا یہ کیس یورپ میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا مقدمہ ہے۔
ستمبر میں سماعت کے بعد ’جیما‘ کے سربراہ کائی ویلپ نے کہا تھا کہ یہ کیس ’تخلیقی فنکاروں کے معاوضے کے لیے انتہائی اہم مضمرات‘ کا حامل ہو سکتا ہے۔
اس فیصلے کو یورپ میں مصنوعی ذہانت اور تخلیقی حقوق کے تناظر میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
