دہلی دھماکہ، ’گاڑی ہریانہ میں میڈیکل کالج کے احاطے میں 11 دن تک کھڑی رہی‘
دہلی دھماکہ، ’گاڑی ہریانہ میں میڈیکل کالج کے احاطے میں 11 دن تک کھڑی رہی‘
بدھ 12 نومبر 2025 6:38
انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے میں استعمال ہونے والی سفید رنگ کی ہنڈائی کار ہریانہ کے قریب فرید آباد میں الفلاح میڈیکل کالج کے احاطے میں تقریباً 11 دن تک کھڑی رہی جسے بعد میں دہلی لے جایا گیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مشتبہ حملہ آور ڈاکٹر عمر نبی نے یہ گاڑی 10 نومبر کو حملے کی صبح گھبراہٹ کے عالم میں کالج کیمپس سے نکالی۔
پیر کی شام 6 بج کر 52 منٹ پر پرانی دہلی کے علاقے میں لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے قریب ایک سست رفتار ہنڈائی آئی 20 گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ نو افراد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تقریباً دو درجن افراد زخمی ہوئے۔
منگل کو انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کار دھماکے کو ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر عمر نبی نے یہ گاڑی29 اکتوبر کو فرید آباد کے ایک کار ڈیلر سونو سے خریدی تھی اور اسی دن گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے لے گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی سونو کے دفتر رویل کار زون کے قریب پولیوشن انڈر کنٹرول بوتھ کے پاس کھڑی ہے۔
اسی دن ڈاکٹر عمر نبی نے گاڑی کو الفلاح میڈیکل کالج پہنچایا اور اسے ڈاکٹر مجمل شکیل کی گاڑی سوئفٹ ڈیزائر کے ساتھ پارک کیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر شکیل کو پیر کے روز بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر شکیل کی گاڑی ڈاکٹر شاہین سعید کے نام پر رجسٹرڈ تھی جن کی گاڑی سے خودکار رائفلیں اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔
انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات اَن لافُل ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ‘ کے تحت کی جا رہی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
کار مبینہ طور پر 29 اکتوبر سے 10 نومبر تک وہیں پارک رہی تاہم ڈاکٹر عمر نبی اپنے قریبی ساتھیوں ڈاکٹر مجمل شکیل اور ڈاکٹر عدیل احمد کی گرفتاری کے بعد گھبرا گیا تھا۔
اس کے بعد گاڑی کو کناٹ پلیس اور مایور وہار میں دیکھا گیا اور پھر اسے چاندنی چوک کی سنہری مسجد کی پارکنگ میں کھڑا کیا گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، گاڑی تین بج کر 19 منٹ پر پارکنگ میں داخل ہوئی، جس میں بمبار کا ہاتھ کھڑکی پر دیکھا جا سکتا ہے۔ گاڑی چھ بج کر 30 منٹ تک پارکنگ سے باہر نہیں نکلی اور ڈاکٹر عمر نبی مبینہ طور پر گاڑی سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی گاڑی سے نہیں اُترے۔
دہلی دھماکے کے مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر نبی کے قریبی ساتھی ڈاکٹر مجمل شکیل کو پیر کی صبح جموں و کشمیر پولیس اور ہریانہ پولیس کی مشترکہ کارروائی میں ڈاکٹر عدیل احمد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران پولیس نے دو ہزار 900 کلو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ خودکار رائفلیں، پستول اور دیگر ہتھیار برآمد کیے۔
لکھنؤ کی رہائشی ڈاکٹر شاہین سعید کو منگل کو فرید آباد میں بڑی مقدار میں بارودی مواد کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔
منگل کو این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ افراد کے گھروں پر پیر کے دن چھاپے اور 2,900 کلوگرام بارودی مواد برآمد ہونے کے بعد ان افراد میں خوف و ہراس پیدا ہوا اور وہ اپنی جگہیں تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے۔