پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے کن ارکان نے 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا؟
پیر 10 نومبر 2025 15:28
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا، سینیٹ، سے 27ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ اس وقت شق وار منظور کیا جا رہا ہے، جس کے حق میں حکومت کو کل 64 ووٹ حاصل ہو رہے ہیں، جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آ رہا۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں آج شام وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیا، جس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑیں اور بعد ازاں ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔
تاہم جب چیئرمین سینیٹ نے بل کے حق اور مخالفت میں ووٹنگ کا عمل شروع کروایا تو حکومتی اتحاد کو ابتدائی طور پر 62 ووٹ ملے۔ اسی دوران اچانک سینیٹر سیف اللہ ابڑو (پاکستان تحریکِ انصاف) اور سینیٹر احمد علی (جمعیت علمائے اسلام) بھی حکومتی صف میں کھڑے ہو گئے، جس کے بعد حکومت کو مطلوبہ نمبر پورے ہو گئے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو پاکستان تحریکِ انصاف کے سندھ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات چل رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت کے باوجود انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا تھا اور اس سے قبل کراچی کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا بھی اعلان کیا تھا۔
حکومت کو ووٹ دینے والے دوسرے رکن، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر احمد خان ہیں، جو 2024 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
سینیٹر احمد خان کا خاندان ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والی ایک معروف کمپنی کا مالک بھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں وزیرِ دفاع پاکستان کی جانب سے ان پر نام لیے بغیر الزامات عائد کیے گئے تھے۔
