Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ منصوبہ: امریکہ اور سعودی عرب کا اقوام متحدہ سے قرارداد کی ’جلد منظوری‘ کا مطالبہ

امریکہ، سعودی عرب، کئی دیگر عرب اور مسلم اکثریتی ممالک نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی توثیق کرنے والی امریکی قرارداد کو جلد از جلد منظور کرے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مذکورہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، اُردن اور ترکیہ سلامتی کونسل میں زیرِ غور قرارداد کی مشترکہ حمایت کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی فوری منظوری چاہتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم زور دیتے ہیں کہ یہ ایک مخلص کوشش ہے، اور یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے لیے قابل عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔‘
قرارداد کے مسودے میں ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا خیرمقدم کیا گیا جو غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامیہ ہوگی جس کی صدارت نظریاتی طور پر صدر ٹرمپ کریں گے۔
اس قرارداد کے مطابق رکن ممالک ایک عبوری عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تشکیل دے سکیں گے جو اسرائیل اور مصر اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کی حفاظت اور غزہ پٹی کو غیر مسلح بنانے میں مدد کرے گی۔
سابقہ مسودوں کے برعکس تازہ ترین مسودے میں مستقبل میں ممکنہ فلسطینی ریاست کا ذکر کیا گیا ہے۔
جمعے کا مشترکہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس نے کونسل کے ارکان کو ایک متبادل مسودہ پیش کیا جو متن کے مطابق نہ تو غزہ میں ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کی سہولت دیتا ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی فورس کی فوری تعیناتی کی۔
روسی مسودے میں ’وہ اقدام جس نے جنگ بندی تک پہنچایا‘ کا خیر مقدم کیا گیا ہے لیکن اس میں صدر ٹرمپ کا نام نہیں لیا گیا۔
اس مسودے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن منصوبے کی ’شقوں پر عمل درآمد کے لیے ممکنہ راستوں کی نشاندہی‘ کریں اور جلد ایک ایسی رپورٹ پیش کریں جو اسرائیلی جارحیت سے تباہ حال غزہ میں کسی بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے امکانات کو بھی بیان کرے۔
امریکہ نے سیز فائر کو ’کمزور‘ قرار دیتے ہوئے جمعرات کو خبردار کیا کہ اس کی پیش کردہ قرارداد کو منظور نہ کرنے کی صورت میں کیا خطرات درپیش ہوں گے۔
امریکہ کے مشن برائے اقوام متحدہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’اس وقت اختلافات کی آگ بھڑکانے کی کوششیں، جب اس قرارداد پر اتفاقِ رائے کے لیے فعال مذاکرات جاری ہیں، غزہ کے فلسطینیوں کے لیے سنگین، حقیقی اور ان نتائج  کا سبب بنے گی جن سے مکمل طور پر گریز کیا جا سکتا ہے۔‘

 

شیئر: