قطر ایئر ویز کا 29 پروازیں چلانے کا اعلان، ایئر لائنز کی ٹکٹیں مہنگی
جمعرات کو دوحہ سے آنے اور جانے والی 29 پروازیں چلائی جائیں گی (فوٹو: روئٹرز)
قطر ایئر ویز نے کہا ہے کہ قطر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے عارضی اجازت ملنے کے بعد جمعرات کو دوحہ سے آنے اور جانے والی 29 پروازیں چلائی جائیں گی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمپنی نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ’قطر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے وقتی اجازت ملنے کے بعد محدود پروازوں کی اجازت دی گئی ہے۔‘
ان پروازوں میں لندن، نیویارک اور میڈرڈ کے لیے پروازیں بھی شامل ہیں حالانکہ ایران کی جانب سے خلیج میں جوابی حملے جاری ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کی کیوئنٹاس ایئر ویز، سکینڈینیویا کی ایس اے ایس اور ایئر نیوزی لینڈ نے منگل کو پروازوں کے کرائے میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافہ بتائی گئی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتیں، جو امریکی-اسرائیلی حملوں سے پہلے 85 سے 90 ڈالر فی بیرل تھیں، حالیہ دنوں میں 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
نیوزی لینڈ کی قومی ایئر لائن نے کہا کہ تنازع کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث اس نے 2026 کے لیے اپنی مالی منصوبہ بندی معطل کر دی ہے۔
سکینڈینیویا ایئرلائن سسٹم (ایس اے ایس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اس قدر بڑے اضافے کے باعث مستحکم اور قابلِ اعتماد آپریئشنز کو برقرار رکھنے کے لیے فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ کرایوں میں عارضی طور پر تبدیلی کی گئی ہے۔
کچھ ایشیائی اور یورپی ایئر لائنز جن میں لوفٹ ہانسا اور رائین ایئر شامل ہیں، نے ایندھن کی ہیجنگ کی ہوئی ہے، یعنی اپنے ایندھن کی کچھ مقدار مقررہ قیمت پر محفوظ کر لی ہے۔
فن ائر نے کہا کہ اس نے پہلے کوارٹر کے ایندھن کی خریداری کا 80 فیصد ہیج کر رکھا تھا تاہم خبردار کیا کہ اگر تنازع جاری رہا تو ایندھن کی دستیابی بھی متاچڑ ہو سکتی ہے۔
کیوئنٹاس نے کہا کہ بین الاقوامی کرایوں میں اضافے کے علاوہ وہ یورپ میں اپنی پروازیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے تاکہ ایئر لائنز اور مسافر مشرق وسطیٰ میں ہونے والے خلل سے بچ سکیں۔
مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود کی پابندیوں سے انڈین ایئر لائنز بھی متاثر ہوئی ہیں جو یورپ اور امریکہ کے لیے اس علاقے کو راستہ سمجھتی ہیں، کیونکہ پاکستان نے گزشتہ سال سے بھارتی ایئر لائنز کو اپنے فضائی حدود میں پرواز کرنے سے روک رکھا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود کی پابندیوں نے انڈین ایئر لائنز کو بھی متاثر کیا ہے جو یورپ اور امریکہ کے لیے اس راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال سے انڈین ایئر لائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک رکھا ہے۔
جنگ کی وجہ سے پروازوں کو دوبارہ شیڈول اور راستہ تبدیل کرنے کے دوران، انڈین ایئر لائنز کے پاس محدود اختیارات ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی فضائی حدود سے بھی نہیں گزر سکتیں۔
ایوی ایشن کا ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سیریم کے مطابق ملک کی سب سے بڑی بین الاقوامی ایئر لائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو، نے گزشتہ 10 دنوں میں اپنے 1,230 شیڈول شدہ پروازوں میں سے 64 فیصد پروازیں مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے نہیں چلائیں۔
