معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی سابقہ حکمران جماعت کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کے باوجود بنگلہ دیش کا دارالحکومت اور بڑے شہر منگل کے روز پُرسکون رہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شیخ حسینہ واجد کو پیر کو انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی۔
مزید پڑھیں
-

-

بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم حسینہ کے فیصلے سے قبل تناؤ میں اضافہ
Node ID: 897278
-

طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن، شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم
Node ID: 897287
تاہم سزا سنائے جانے کے ایک دن بعد حسینہ واجد کی جماعت کی جانب سے احتجاج کی کال کے باوجود ملک میں سکون اور خاموشی رہی۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ اور سابق وزیرداخلہ اسد الزمان خان کو گذشتہ سال مظاہرین کے خلاف طاقت کے مہلک استعمال میں ملوث ہونے پر عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
شیخ حسینہ کی سابق حکمران جماعت عوامی لیگ نے پیر کو عدالتی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’کینگرو کورٹ‘ قرار دیا اور اگلے دن ملک گیر شٹ ڈاؤن کی اپیل کی تھی۔
پیر کی رات گئے تک حسینہ کے مخالفین کی پولیس اور فوج کے ساتھ جھڑپیں جاری رہیں اور انہوں نے بنگلہ دیش کے بانی رہنما اور حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کے گھر کو مسمار کرنے کے لیے کھدائی مشینیں استعمال کرنے کی کوشش کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق سابق صدر اور عوامی لیگ کے سینئر رہنما عبد الحمید کے گھر کو بھی ضلع کِشورگنج میں توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔
لیکن منگل کو نہ ٹرانسپورٹ اور دیگر سروسز بند ہوئیں، نہ دکانیں اور نہ سکول۔

ڈھاکہ کے ایک تاجر محمد سائیکوت حسین نے کہا کہ ’یہاں قانون کی حقیقی حکمرانی نہیں اور میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ پہلے ملک چلا رہے تھے انہوں نے قانون کو اپنی مرضی سے ڈھالا اور جو لوگ اب چلا رہے ہیں وہ بھی یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔
’ہماری اگلی نسل اسی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی مقصد ہے نہ مستقبل۔ میں بہت پریشان ہوں کہ وہ آنے والے دنوں میں کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے۔‘
78 سالہ حسینہ واجد کو پیر کو انسانیت کے خلاف پانچ جرائم میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ انہیں اشتعال انگیز بیانات دینے اور طلبہ مظاہرین کو ہیلی کاپٹر، ڈرون اور مہلک ہتھیاروں سے ختم کرنے کا حکم دینے پر عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی۔










