انڈین ایئر فورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
انڈین ایئر فورس نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’آئی اے ایف کا تیجس طیارہ آج دبئی ایئر شو میں فضائی نمائش کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے میں پائلٹ کو شدید چوٹیں آئیں۔‘
’آئی اے ایف جانی نقصان پر گہرا افسوس کرتا ہے اور غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی جا رہی ہے۔‘
حادثے کے وقت کئی خواتین، بچے اور دیگر شائقین مظاہرے کو قریب سے دیکھ رہے تھے، جنہوں نے حادثے کے بعد خوف اور حیرت میں منتشر ہونا شروع کر دیا۔ حکام نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب انڈین فضائیہ اس طیارے کا ایک جدید ورژن LCA Mk-1A اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ ایل سی اے کا اب تک ریکارڈ کیا گیا دوسرا حادثہ ہے۔
اس سے قبل 12 مارچ 2024 کو راجستھان کے جیسلمیر کے قریب ایک سنگل انجن تیجس فائٹر جیٹ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس سے محض چند منٹ پہلے ہی اس نے سہ فریقی سروسز مشق میں حصہ لیا تھا جس میں دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں انڈیا کی خود انحصاری کی جانب پیش رفت کو ظاہر کیا گیا تھا۔
اس واقعے میں طیارے کا پائلٹ بحفاظت باہر نکل گیا تھا۔
انڈین ایئر فورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے (فائل فوٹو: وکی پیڈیا)
ایل سی اے ایم کے۔1 تباہ ہونے سے قبل جیسلمیر کے قریب پوکھران فائرنگ رینج میں ایک اور تیجس طیارے کے ساتھ سہ فریقی سروسز مشق میں حصہ لے چکا تھا۔
انڈین فضائیہ نے جولائی 2016 میں اپنا پہلا تیجس طیارہ شامل کیا تھا۔
حادثوں کا شکار ہونے والے دونوں طیارے ایم کے۔ وَن فلیٹ سے تعلق رکھتے تھے جنہیں ابتدائی آپریشنل کلیئرنس اور زیادہ جدید فائنل آپریشنل کلیئرنس (ایف او سی) کنفیگریشنز کے تحت شامل کیا گیا تھا۔
تیجس جیٹ ایک انجن والا ہوائی جہاز ہے جس کا حفاظتی ریکارڈ قابل تعریف قرار دیا جاتا رہا ہے اور انڈیا کی حکومت کا اس خاص طیارے پر اعتماد تھا۔
دو برس قبل شائع ہونے والی رپورٹس میں یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ آئی اے ایف کے لیے 83 تیجس ایم کے وَن اے جیٹ طیاروں کا آرڈر 2029 تک مکمل ہو جائے گا۔