نوماس ریاض میں ’آرٹ آف ہیرٹِج‘ کے تعاون سے ایک خصوصی ثقافتی تقریب ہوئی جس میں سعودی کاریگری، علاقے کی فنکارانہ روایات اور کھانے پکانے کا تجربہ سب یکجا ہوگئے۔
اس تقریب کا مقصد مملکت میں متنوع ثقافتی ورثے اور اس میں نظر آنے والی رنگا رنگی کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔
مزید پڑھیں
-
سعودی آرٹسٹ جو بانس کے کاغذ سے آرٹ تخلیق کرتی ہیںNode ID: 892236
-
سعودی آرٹسٹ جن کے فن پارے عسیر ریجن کے لینڈ سکیپ سے متاثر ہیںNode ID: 892847
نوماس، میریٹ ریاض کے سفارتی کوارٹر میں واقع اعلیٰ درجے کا ریستوران ہے جہاں کھانے پکانے میں جدید دور کے ماحول اور روایتی سعودی پکوانوں کے طریقوں اور میراث کا امتزاج ایک تجربے کی صورت میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔
اس ریستورن کا افتتاح اسی سال ستمبر کے مہینے میں ہوا تھا جہاں کے اندرونی ماحول کو مقامی طور پر ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ سعودی شناخت ابھر کر سامنے آتی ہے۔
یہاں فنکارانہ تفصیل جا بجا بکھری پڑی ہے جس میں ہاتھ سے بنے ہوئے لیمپ اور ضرورت کے مطابق تیار کردہ رکابیاں، طشتریاں، چھری کانٹے وغیرہ رکھے گئے ہیں جو مملکت کے مختلف علاقوں کی کہانیوں اور روایتوں کے عکاس ہیں۔

شام کے وقت، سعودی فن اور ورثے کے طرح طرح کے نمونوں کی نمائش بھی ہوئی جہاں مملکت کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے نوادارت دیکھنے کو ملے۔
مہمانوں کو دعوت دی گئی کہ وہ کپڑوں کے انتہائی پیچیدہ اور روایتی ڈیزائنوں کو غور سے دیکھنا چاہیں تو دیکھیں۔ انھیں مقامی ہنر کی گہرائی کا اظہار کرنے والی، ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاء پر غور و فکر کے لیے بھی کہا گیا۔ یہ نمائش پورے ریستوان میں ہر جگہ نظر آ رہی تھی۔
تقریب میں شہزادی نورہ الفیصل بھی موجود تھیں جو ’آرٹ آف ہیرٹِج‘ کی بانی ہیں۔ انھوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے تعاون کی اہمیت کو خاص طور پر اجاگر کیا۔

شہزادی نورہ الفیصل نے امید ظاہر کی کہ’ اس تقریب سے مہمانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ اپنے ارد گرد نظر آنے والی فنکارانہ خوبصورتی کو قریب سے دیکھ سکیں۔‘
انھوں نے زور دے کر کہا ’آج شب آپ کی آنکھیں کھلی رہنی چاہییں کیونکہ آج آپ طاقوں، دیواروں، حتٰی کہ کرسیوں پر رکھی گئی گدّیوں سمیت جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے فنکاروں اور دستکاروں کا تیار کیا ہوا ہے۔ ہر چیز میں تفصیل جھلک رہی ہے اور ہم چاہتے تھے کہ یہاں آنے والوں کو لگے کہ ان کے آگے پیچھے اور ارد گرد تخلیق اور تاریخ ہے۔‘
شہزادی نورہ الفیصل نے کہا کہ ’آرٹ آف ہیرٹِج‘ اپنے مخصوص روایتی لباسوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے لیکن اس تنظیم کا کام فیشن سے کہیں آگے کا ہے۔

’سب یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام کپڑوں سے متعلق ہے لیکن ہم جو کچھ بناتے ہیں اس کا بڑا حصہ تو گھروں میں استعمال ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم پلیٹیں اور کپ بھی بناتے ہیں اور اب ہم ریستوانوں کی میزوں پر استعمال ہونے والی وہ تمام اشیا بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے ساتھ کھانا کھایا جاتا ہے۔آج کی نمائش اس ورائٹی کو آپ کے سامنے رکھنے کا ایک موقع تھی۔‘
’انتہائی احتیاط اور باریک بینی کے ساتھ تیار کیا گیا ڈنر، سعودی عرب کے کھانے پکانے کے ورثے کو اجاگر کر رہا تھا۔‘

نوماس کے شیف احد نے ایسا مینیو پیش کیا جو علاقائی ذائقوں سے متاثر ہو کر تیار گیا تھا جس میں روایتی اجزا بھی شامل تھے۔
رات کے کھانے کے بعد مہمانوں کو ایک کہانی بھی سنائی گئی جس میں نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کی تیاری کے پیچھے ثقافتی محرکات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
شہزادی نورہ نے اس تقریب میں تعاون کی اہمیت کی تعریف کی اور کہا: ’آرٹ آف ہیرٹِج‘ میں ہم جو کچھ بھی تیار کرتے ہیں اس پر ہمیں فخر ہے۔ اس تقریب کے لیے میریٹ ٹیم میں ہمیں زبردست شراکت کاروں کا تعاون حاصل ہوا ہے۔‘

’اس ڈنر سے اچھی اور کیا نشست ہو سکتی ہے جس میں ہم اپنے فنکاروں اور ان کی کاریگری کی خوبصورتی کو نمایاں کریں۔‘
’آپ کا شکریہ کہ آپ یہاں تشریف لائے اور ہمارے ہنرمندوں کے کام کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی بات ہے۔ مجھے امید ہے آپ میں سے ہر ایک نے ہر فن پارے کے پس منظر میں کہانی کو نہ صرف تلاش کر لیا ہوگا بلکہ اس سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں گے۔‘











