چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا عمل شروع ہو چکا، قیاس آرائیاں بلاجواز: وزیر دفاع
چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا عمل شروع ہو چکا، قیاس آرائیاں بلاجواز: وزیر دفاع
اتوار 30 نومبر 2025 17:00
یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ 27 نومبر کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا اضافی چارج بھی ہو گا۔ (فائل فوٹو: آئی ایس پی آر)
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فورسز کی تقرری سے متعلق غیرضروری اور غیرذمہ دارانہ قیاس آرائیاں بلاجواز پھیلائی جا رہی ہیں۔
اتوار کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ ’اس حوالے سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ تقرری کا باقاعدہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان جلد واپس وطن پہنچ رہے ہیں، اور ان کی واپسی کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر قیاس آرائیوں یا بے بنیاد تبصروں کی کوئی گنجائش نہیں۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا فوج سے 27 نومبر کو ریٹائر ہو گئے ہیں۔ وہ فوج کے آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تھے کیونکہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب یہ عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔اور اس کی جگہ ایک نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا متعارف کرا گیا ہے جس پر بری فوج کے سربراہ ہی فائز ہوں گے۔
یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ 27 نومبر کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا اضافی چارج بھی ہو گا۔ تاہم ابھی تک وفاقی حکومت نے ابھی تک اس متعلق باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا ہے۔ اور اس کی تصدیق وزیر دفاع نے بھی کر دی ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ کیوں تخلیق کیا گیا؟
پاکستان کی وفاقی حکومت نے رواں مہینے مسلح افواج کے انتظامی اور کمانڈ ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دی، جن کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے نام سے ایک نیا عسکری عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔
ان فیصلوں کے مطابق نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے نظامِ تقرری اور مدتِ ملازمت کے قواعد بھی ازسرِ نو مرتب کیے گئے، اور اب ان عہدوں کی تعیناتی یا توسیع سے متعلق معاملات کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیے جا سکیں گے۔
یہ اہم فیصلے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے، جس میں پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔
کابینہ کے اعلامیے کے مطابق یہ ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں کی گئیں تاکہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مسلح افواج سے متعلق قانونی ڈھانچے کو آئینی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ کابینہ نے واضح کیا کہ ان ترامیم کا مقصد پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں فیصلہ سازی کے تسلسل، کمانڈ کے ربط اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق تنظیم نو کو ممکن بنانا ہے۔
نئے ترمیمی قانون کے مطابق پاکستان آرمی میں چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم کیا جائے گا، جس کی مدتِ تعیناتی کا آغاز نوٹیفکیشن کے بعد ہو گا۔
موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت نوٹیفکیشن کے بعد ازسرِنو تصور کی جائے گی۔ وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں میں سے ایک کو کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے طور پر تین برس کے لیے تعینات کریں گے اور ضرورت پڑنے پر سکیورٹی مفاد میں اس مدت میں مزید تین برس کی توسیع بھی دی جا سکے گی۔
بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے خلاف کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
وزارتِ دفاع کے مطابق اس فیصلے سے تینوں افواج کے درمیان رابطے اور آپریشنل ہم آہنگی کے لیے ایک مربوط کمانڈ سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ جیسے اعزازی عہدے بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ اعلٰی عسکری قیادت کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق درجہ بندی فراہم کی جا سکے۔
ترمیمی بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ وفاقی حکومت، آرمی چیف کی سفارش پر وائس چیف آف آرمی سٹاف یا ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف کو یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ آرمی چیف کے تمام اختیارات اور فرائض سرانجام دیں، تاکہ کسی غیرمعمولی صورتحال میں فوجی کمان میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
حکومتی موقف کے مطابق یہ قدم افواجِ پاکستان کے انتظامی تسلسل اور فیصلہ سازی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔