Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اے آئی ماڈلز اور بھرتی کی شرح میں عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر

لینگویج ماڈلز سے رہنمائی میں سعودی عرب کا درجہ امریکہ اور چین کے بعد ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے مختلف ماڈلز سے کام لینے اور اس سے متعلقہ کاموں میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی رینکنگ میں سعودی عرب دنیا میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ رینکنگ ’سٹینفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (ایچ اے آئی)‘ کی طرف سے کی گئی ہے، 2025 کی انڈیکس میں سعودی عرب تیسری پوزیشن پر ہے۔
لینگویج ماڈلز سے رہنمائی حاصل کرنے میں سعودی عرب کا درجہ امریکہ اور چین کے بعد ہے جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ ملازمتوں کی شرح میں، سٹینفورڈ کے انڈیکس میں انڈیا کو پہلے، برازیل کو دوسرے اور مملکت کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
یہ رینکنگ، سٹینفورڈ کی اے آئی انڈیکس کے مختلف شعبوں میں، ممکت کی قابلِ ذکر  ترقی کی عکاس ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب، دنیا کے پہلے دس ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مملکت ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے حوالے سے عالمی سطح پر ساتویں نمبر پر پہنچ گیا جبکہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں عوامی آگاہی کے حوالے سے مملکت عالمی سطح پر آٹھویں نمبر پر ہے۔

ان کوششوں کو مملکت کے ’وژن 2030‘ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد مملکت کو ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں قائدانہ کرادا ادا کرنے والی معیشت کے طور پر سامنے لانا ہے۔
اس رینکنگ سے سعودی عرب کی جدید ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی قائدانہ صلاحیت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے جسے آگے لے جانے میں سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی اتھارٹی کی کوششیں شامل ہیں۔ 
 مملکت کو ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں عالمی ماڈل کا مقام حاصل ہے، جو وژن 2030 کے اہداف میں شامل ہے جس کا مقصد انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

 

شیئر: