پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں منشیات کے استعمال اور نشے کے عادی افراد کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے نیا قومی سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان میں منشیات کے استعمال سے متعلق آخری سروے سنہ 2012 میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم نے کیا تھا جس کے مطابق اُس وقت ملک میں ’15 سے 64 سال‘ کی عمر کے لگ بھگ 67 لاکھ افراد مختلف نشہ آور مواد استعمال کرتے تھے۔
اس کے بعد پورے ملک میں کوئی نیا سروے نہیں ہوا جس کی وجہ سے موجودہ صورتِ حال کے درست تخمینے میں ایک بڑا خلا موجود ہے۔
مزید پڑھیں
-
نشے کے عادی علاج کے باوجود نشہ کیوں شروع کر دیتے ہیں؟Node ID: 889825
اسی ضرورت کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ادارہ شماریات کو ہدایت کی ہے کہ وہ تازہ قومی منشیات سروے مکمل کرے جو دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق نئے سروے کا مقصد صرف نشے کے عادی افراد کی تعداد معلوم کرنا نہیں بلکہ اس کے پھیلاؤ، نئی اقسام کی منشیات، ان کے استعمال کے رجحانات، متاثرہ علاقوں اور سماجی رویّوں میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی سائنسی بنیادوں پر ریکارڈ کرنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں ’آئس‘، ’میتھ‘ اور دیگر کیمیائی منشیات کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن درست اعداد و شمار کے بغیر نیا لائحۂ عمل تشکیل پا سکتا ہے اور نہ ہی بروقت نگرانی ممکن ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ یہ سروے قومی سطح پر ایک جامع، تحقیقی اور گھر گھر رابطے کے طریقہ کار سے مکمل کیا جائے، جس میں ہسپتالوں کا ریکارڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار اور سماجی تحقیق کے نتائج بھی شامل ہوں۔
دوسری جانب ملک میں منشیات کی روک تھام کے لیے ’اے این ایف‘ مختلف شعبوں میں بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور صرف 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی طور پر 300 میٹرک ٹن سے زائد منشیات قبضے میں لی گئیں۔

ان میں ’میتھ ایمفیٹامائن‘، ’ہیروئن‘ اور مختلف ’مصنوعی منشیات‘ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے خطرے کو روکنے کے لیے ’ایجوکیشنل ادارہ جاتی مہم‘ مسلسل دوسرے سال بھی چلائی گئی جس کے دوران درجنوں گرفتاریاں، سینکڑوں مقدمات اور لاکھوں کلوگرام منشیات پکرے جانے کے واقعات سامنے آئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 اور سنہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 480 مقدمات درج ہوئے، 556 افراد گرفتار کیے گئے اور ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار کلوگرام سے زائد منشیات قبضے میں لی گئیں۔
اسی طرح بدلتے ہوئے سمگلنگ طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اے این ایف نے ’کورئیر اور پارسل کمپنیوں‘ کی نگرانی سخت کر دی ہے۔ اس سختی کے نتیجے میں 514 مقدمات، 91 گرفتاریاں اور 18 لاکھ کلوگرام سے زائد منشیات پکڑی گئیں جو اندرون و بیرون ملک بھیجے جانے والے سامان میں چھپائی گئی تھیں۔
عوامی آگاہی کے لیے اے این ایف نے ملک بھر میں 16 ہزار سے زائد ’ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن‘ سرگرمیاں بھی منعقد کیں جن میں طلبہ، اساتذہ اور عام شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق 15 ہزار سے زائد نوجوان بطور ’یوتھ ایمبیسیڈر‘ اس مہم کا حصہ ہیں۔

علاج اور بحالی کے حوالے سے بتایا گیا کہ نشے کے مریضوں کے علاج کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کے پاس ہے، البتہ اے این ایف اپنے سات ’ماڈل نشہ چھڑاؤ مراکز‘ کے ذریعے مفت علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ان مراکز میں اب تک 31 ہزار سے زائد مریض علاج مکمل کر چکے ہیں، جب کہ کراچی، اسلام آباد، سکھر، حیدرآباد، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں موجود مراکز کی گنجائش بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اے این ایف لاہور اور پشاور میں دو نئے مراکز قائم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ افراد کو فوری اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
حکومتی موقف کے مطابق نیا قومی سروے منشیات کے مسئلے کی درست تشخیص اور اس کے انسداد کے لیے ایک مضبوط اور ہمہ جہت لائحۂ عمل تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہو گا جس سے مستقبل کی ڈرگ پالیسی، شواہد پر مبنی قانون سازی اور قومی سلامتی سے متعلق اقدامات کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کرے گا۔












