صدر پوتن اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کی ملاقات منگل کو، ’یوکرین پر دباؤ بڑھا سکتی ہے‘
یورپی یونین نے کہا ہے کہ آنے والا ہفتہ یوکرین کے لیے ’فیصلہ کن‘ ہو سکتا ہے (فوٹو: اے پی)
روس نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن منگل کی دوپہر ماسکو میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے ساتھ یوکرین پر بات چیت کریں گے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب امریکی اور یوکرینی حکام نے ایک امریکی منصوبے پر مذاکرات کیے ہیں، جسے واشنگٹن ماسکو اور کیف کے درمیان لڑائی ختم کرنے کی بنیاد بنانا چاہتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ’وٹکوف کے ساتھ ملاقات کل کے لیے طے کی گئی ہے۔‘
پوتن نے گذشتہ ہفتے دوبارہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات دہرائے کہ کیف ان علاقوں کو چھوڑ دے جنہیں ماسکو اپنا قرار دیتا ہے ورنہ اس کی فوج انہیں طاقت کے ذریعے لے گی۔
وٹکوف نے کریملن میں پوتن سے کئی بار ملاقات کی ہے۔
امریکی اہلکار کو ماسکو کے ساتھ بات چیت میں اپنے رویے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ جنگ ختم کرنے کے لیے ابتدائی امریکی منصوبہ بڑے پیمانے پر کریملن کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ آنے والا ہفتہ یوکرین کے لیے ’فیصلہ کن‘ ہو سکتا ہے۔
یوکرین کے ولادیمیر زیلنسکی پیر کو پیرس میں تھے تاکہ کیف کے لیے یورپی حمایت کو بڑھا سکیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً چار سالہ جنگ ختم کرنے کے ممکنہ معاہدے پر امید ظاہر کی۔
پیرس میں ہونے والی بات چیت کے دوران میکخواں اور زیلنسکی نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر، جرمنی، پولینڈ، اٹلی، ناروے، فن لینڈ، ڈنمارک اور نیدرلینڈز کے رہنماؤں اور یورپی یونین کے سربراہ انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسلا فان ڈیر لیین اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے کو بھی فون کیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے پیر کو خبردار کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان بات چیت یوکرین پر رعایت دینے کے دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔
