بلوچستان: کالعدم تنظیموں کے کمانڈرز اور سہولت کاروں کے خلاف ’بھرپور کریک ڈاؤن‘ کا فیصلہ
بلوچستان: کالعدم تنظیموں کے کمانڈرز اور سہولت کاروں کے خلاف ’بھرپور کریک ڈاؤن‘ کا فیصلہ
جمعرات 4 دسمبر 2025 12:26
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’سیاسی لبادہ اوڑھے دہشت گردوں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا ہے۔‘ (فوٹو: اے پی پی)
بلوچستان حکومت نے دہشت گردی میں ملوث بیرونِ ملک موجود کالعدم تنظیموں کے سربراہان، کمانڈرز اور 300 سے زائد دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے سخت اور غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بیرونِ ملک موجود دہشت گرد قیادت کے مقامی سہولت کاروں سے روابط، کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرون ملک بیٹھے دہشت گرد کمانڈرز اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی، "بی آر اے اور لشکر بلوچستان کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن تیز کی جائے جبکہ وفاقی وزارت داخلہ و وزارت خارجہ کے تعاون سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کے اجرا کی کارروائی بھی تیز کی جائے۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت پروانشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائنز کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث مقامی سہولت کاروں سے لے کر کالعدم تنظیموں کی قیادت تک دہشت گرد قیادت تک سب کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان کی سرزمین پر خون بہانے والوں کو دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ ’سیاسی لبادہ اوڑھے دہشت گرد تنظیموں کے بیرون ملک موجود سربراہان اور کمانڈرز کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘
بلوچستان حکومت نے 300 سے زائد دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے (فوٹو:اے ایف پی)
انہوں نے ہدایت کی کہ انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور محکمہ داخلہ پروانشل ایکشن پلان کے تحت قائم سیل کو مکمل طور پر متحرک کرے۔
تمام کالعدم تنظیموں کے سربراہان اور سہولت کاروں کی فہرست مرتب کرتے ہوئے دستیاب شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ وفاقی حکومت کی مدد سے انہیں بین الاقوامی فورمز پر پیش کرکے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے اور بلوچستان کسی غیر ملکی ایجنڈے کا شکار نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دشمنوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور آخری سہولت کار تک پیچھا کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے امن، عوام کی حفاظت اور ریاستی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘