Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جبل القدر‘ مملکت میں آتش فشانی عجوبہ دنیا کے سوعظیم ارضیاتی مقامات میں شامل

آتش فشانی مخروطی پہاڑ تقریبا 4 سو میٹر بلند ہے (فوٹو ، ایس پی اے)
مدینہ منورہ ریجن کے شمال میں واقع آتش فشانی علاقہ ’حرۃ خیبر‘ میں موجود ’جبل القدر‘ کو یونیسکو اور بین الاقوامی یونین برائے علوم ارضیات کی جانب سے دنیا کے 100 عظیم ترین ارضیاتی مقامات کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق سعودی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ’القدر پہاڑ‘ ایک منفرد ارضیاتی سائٹ کی نمائندگی کرتا ہے جس کی خصوصیت اس کی منفرد و نادر جیالوجیکل تشکیلی ساخت ہے۔
یہ آتش فشانی مخروطی پہاڑ تقریبا 400 میٹر اونچا ہے اسے ملک کے ان تازہ ترین آتش فشانی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے جن میں ہونے والی آخری آتش فشانی سرگرمی تقریبا ایک ہزار برس قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ آثار جو آتش فشانی لاوے کے پھٹنے سے نمایاں ہوئے جنہوں نے چٹانی پتھروں کو ڈھانپ لیا انہیں ’صحرائی کاغذی جہاز ‘ سے عبارت کیا جاتا ہے۔

ارضیاتی ماہرین  کا کہنا ہے کہ  آثار پانچ ہزار برس قدیم ہیں (فوٹو ، ایس پی اے)

ارضیاتی ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ یہ آثار تقریبا 5 ہزار برس قبل یعنی کانسی کے دور   کے ہیں جو قدیم انسانی تاریخ کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے اپنی ارضیاتی انفرادیت اور دیدہ زیب مناظر و آثار کے امتزاج  کی وجہ سے ’جبل القدر‘ آج نہ صرف ماہرین ارضیات کی توجہ کا مرکز ہے بلکہ سعودی عرب میں ابھرتی ہوئی جیولوجیکل سیاحت کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بنتا جارہا ہے۔

شیئر: