ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو مسترد کرتے ہیں: پی ٹی آئی کی جلسے میں قرارداد
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعے کو اپنی پریس کانفرنس مین سابق وزیراعظم عمران خان پر نام لیے بغیر شدید تنقید کی۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ایک قرارداد کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو مسترد کیا ہے کہ عمران خان یا ان کے ساتھی ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ ہیں۔
اتوار کو پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور کے عوامی جلسے میں پیش کی گئی قرارداد میں عمران خان کی رہائی اور ملاقاتوں پر مبینہ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ جمعے کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی افواج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا تھا کہ ’پاکستان کو درپیش اندرونی خطرہ ایک سوچ اور شخصیت سے ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سابق وزیراعظم عمران خان پر نام لیے بغیر شدید تنقید کی۔
قرارداد میں صوبے میں گورنر راج کے بارے میں بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیرقانونی اور غیرآئینی ہو گی۔‘
قرار داد میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ پریس کانفرنس میں لہجے اور رویے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
اس کے علاوہ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت کو فوری طور پر مکمل طور پر بحال کیا جائے، اور تنازعات سفارتی انداز (ڈپلومیٹک چینلز) کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ دو طرفہ تعلقات اور معاشی حالات بہتر ہو سکیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس انڈیا اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اتوار کو لاہور میں عوامی اجتماع سے خطاب میں تحریک انصاف کو دشمن کے آلہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جس فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دی اور انڈیا کے گھٹنے ٹیکے، یہ اس فوج کو برا بھلا کہتے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔‘
