لاہور: جج کے چیمبر سے دو سیب اور ایک ہینڈ واش چوری، نامعلوم چور کے خلاف ’انوکھا‘ مقدمہ درج
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے ایک جج کے چیمبر سے دو سیب اور صابن چوری ہونے پر چوری کا مقدمہ درج کیا ہے۔
لاہور کے تھانہ اسلام پورہ میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ درخواست ایڈیشنل سیشن جج کے ریڈر کی جانب سے تھانے میں جمع کروائی گئی۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’میں حبیب الرحمان بطور ریڈر بعدالت نور محمد بسمل فاضل ایڈیشنل سیشن جج لاہور میں کام کر رہا ہوں۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ ’فاضل جج صاحب کے چیمبر سے دو عدد سیب اور ایک عدد ہینڈ واش چوری ہو گیا ہے۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں تھانے میں جا کر رپورٹ درج کراؤں۔‘
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’رپورٹ درج کرنے کے بعد اس کی نقل بھی فراہم کی جائے اور کارروائی کر کے رپورٹ فاضل جج صاحب کو پیش کریں۔‘
درخواست پر عدالتی ریڈر حبیب الرحمان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق ایک جج کے ریڈر کی جانب سے تحریری طور پر درخواست فرنٹ ڈیسک پر موصول ہوئی۔
درخواست کا مضمون اور حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد تعزیرات پاکستان میں چوری کی دفعہ 380 ت پ لگائی گئی جو کہ اس جُرم کے مطابق ہے۔
ایف آئی آر درج کرنے کے بعد معاملہ انویسٹیگیشن وِنگ کے سپرد کر دیا گیا ہے جہاں ایک تفتیشی افسر اب اس کیس کی تفتیش کے لیے بھی مختص کر دیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں دو عدد سیب اور ایک ہینڈ واش کی قیمت ایک ہزار روپے بتائی گئی، جبکہ ایف آئی آر پر وقوعہ کی تاریخ 5 دسمبر درج ہے۔
ایف آئی آر کا اندراج تین روز بعد 8 دسمبر کو کیا گیا پولیس کے مطابق درخواست بھی اسی روز دی گئی۔
خیال رہے کہ ایف آئی آر میں لگائی جانے والی چوری کی دفعہ 380 ایک سنگین نوعیت کی چوری کے زُمرے میں آتی ہے۔
تعزیرات پاکستان کے مطابق اگر کوئی شخص کسی مکان، خیمے، کشتی یا عمارت (یعنی ایسی رہائشی جگہ جو بند جگہ میں ہو) جہاں کوئی انسان رہتا ہو، وہاں چوری کرنے پر دفعہ 380 ت پ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس جُرم کے تحت 7 سال سزار یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہے۔
