Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جسم کی چابی‘، ڈی این اے کیا اور ٹیسٹ کس قدر قابل بھروسہ ہے؟

زینب قتل میں ملوث شخص ڈی این اے ٹیسٹ کی وجہ سے ہی پکڑا گیا تھا (فوٹو: اے پی)
مشکل انگریزی الفاظ کا آسان مخفف ’ڈی این اے‘ بڑی آسانی سے اردو، پنجابی اور دوسری زبانوں میں نہ صرف شامل ہو گیا ہے بلکہ محاوروں تک میں بھی جگہ بنا چکا ہے۔ کہیں اسے ’جسم کی چابی‘ اور ‘باطن کا آئینہ‘ قرار دیا جاتا ہے تو وہیں یہ اس فہرست میں بھی جا گھسا ہے جہاں پہلے عشق اور مُشک ہوا کرتے تھے اور چھپائے نہیں چھپتے تھے۔
جانداروں کے نسل در نسل صفحات کو کھنگالنے، فیملی ٹری کی جڑوں کو لگنے والے پانی تک کو چھاننے، ماضی و حال کی پرتین کھولنے، بال کے کسی ٹکڑے میں چھپے رازوں کو منکشف کرنے اور بھوسے کے ڈھیر کی طرح بکھرے شواہد میں سے مجرم کو جا دبوچنے والی یہ حیرت انگیز چیز آخر ہے کیا، آج ان نکات پر بات ہو گی جو بہت کم سامنے آئے ہیں۔
مشہور برطانوی ویب سائٹ بریٹینکا ڈاٹ کام کے علاوہ شعبہ طب کے کئی دیگر معتبر پلیٹ فارمز پر بھی اس کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔

یہ ہے کیا؟

ڈی این اے ایک مادہ ہے جو جانداروں کے جسم میں ہوتا ہے اور ٹیسٹ وہ سانئسی طریقہ کار ہے جو خلیات میں موجود جینیاتی کوڈ کا مشاہدہ کرتا ہے، جس سے خاندانی پس منظر، جینیاتی بیماریوں اور انسان کی انفرادی شناخت کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں، اس کے نمونے خون، لعاب دہن، خلیوں، جلد کے بعض حصوں اور بالوں میں موجود ہوتے ہیں اور ٹیسٹ کے لیے وہیں سے حاصل کیے جاتے ہیں جبکہ انگلیوں کے نشانات سے بھی اس کی تشخیص ممکن ہے۔
ہر کسی کا ڈی این اے مختلف ہوتا ہے؟
اگرچہ یہ کافی حیرت انگیز بات لگتی ہے مگر اس کا جواب ہاں میں ہے، یہ اپنے اندر انسان کی زندگی، ماضی، والدین اور دیگر چیزوں کی معلومات رکھتا ہے اور والدین سے بچوں میں منتقل ہونے کے باوجود بھی ہر ایک کا ڈی این اے منفرد ہوتا ہے۔
انسانی جسم بے شمار سیلز یعنی خلیات پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ایک سیل اپنے اندر ایک مالیکیول رکھتا ہے اور یہی ڈی این اے ہوتا ہے۔

ڈی این اے کو سب سے پہلے 1869 میں فریڈریک میشچر نے دریافت کیا تھا (فوٹو: سائنس ہسٹری)

یہ ’ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ‘ کا مخفف ہے جو دراصل ہر انسان کا ایک قسم کا جینیاتی کوڈ ہے جس کے اندر قدرت نے متعلقہ شخص کے بارے میں بے بہا معلومات رکھی ہیں جو ظاہری شکل و صورت، زندگی، تاریخ اور شناخت کے علاوہ دیگر کئی خفیہ چیزیں بھی آشکار کرتی ہیں۔

دریافت اور بعد کے مراحل

اس کی دریافت کا سہرا فریڈریک میشچر کے سر ہے، انہوں نے 1869 میں انسانی خلیوں میں ایک مادہ دریافت کیا تھا جسے نیوکلینن کا نام دیا گیا اس سے وراثتی تصورات اور اس کی اکائیوں کی اہمیت اجاگر ہوئی، اس کے بعد بھی اس مادے پر کام ہوتا رہا۔ پھر 1889 میں مزید وضاحت ہوئی کہ نیوکلینن دو اجزا کا مرکب ہے۔
 اسی طرح 1953 میں جیمز واٹسن اور فرانسس کریک نامی سائنسدانوں نے اس کی ڈبل ہیلکس دریافت کی، جس سے صورت حال مزید واضح ہوئی اور یہی چیز آگے جا کر ڈی این اے اور آر این اے کہلائی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے اور آر این اے کی ساخت میں معمولی سا فرق ہے مگر معلومات ایک سی دیتے ہیں (فوٹو: سائنس ڈاٹ او آر جی)

اس ضمن میں بعدازاں ہونے والی تحقیق سے مزید چیزیں کھلیں اور بات موجود ٹیسٹ تک پہنچی۔

ٹیسٹنگ کا آغاز

80 کی دہائی کے آغاز میں ڈی این اے ٹیسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا تاہم پہلا ماڈرن قرار دیا جانے والا ٹیسٹ 1986 میں ہوا جو کہ ایک کیس کی تفتیش کے دوران کیا گیا تھا۔

 پہلے ٹیسٹ نے پیچیدہ گتھی کیسے سلجھائی؟

1983 اور 86 میں لیسسٹر شائر کاؤنٹی ہونے والی قتل اور زیادتی کی دو واردتوں کے شک میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دونوں ہی جرم سے انکار کر رہے تھے مگر شواہد اشارہ کرتے تھے کہ ان میں سے کوئی ایک مجرم ہے۔

ڈی این اے سے پہلی بار 1986 میں دو پیچیدہ وارداتوں میں ملوث شخص کا تعین ہوا تھا (فوٹو: گیٹی امیجز)

اسی کیس کے دوران پروفیسر جیفریز نے دونوں کا ڈی این اے کیا، جس سے دونوں جرائم کا آپس میں تعلق بھی کھلا، اصل مجرم پکڑا گیا اور بے گناہ شخص بچ گیا۔
اس کے بعد جرائم کی تحقیقات کے لیے ٹیسٹ کا استعمال شروع ہوا اور اس کی بدولت کئی انتہائی اہم کیسز انجام تک پہنچے۔

زینب قتل کیس اور ڈی این اے

پاکستان میں بھی قصور میں زینب نامی بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے ملزم کو اسی ٹیسٹ کے ذریعے پکڑا گیا تھا۔ واردات کے بعد علاقے کے سو سے زائد افراد کا ڈی این اے کیا گیا تھا اور ایک شخص کا بچی کے جسم سے ملنے والے مادے کے ساتھ میچ کر گیا تھا۔
اسی طرح دیگر کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال ہوا ہے اور کیسز حل ہوئے۔
اب اس کو تفتیش کے ضمن میں ایک اہم ٹول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

یہ عام ٹیسٹوں کی طرح نہیں بلکہ کافی پیچیدہ اور وقت طلب ہوتا ہے جو فرانزک لیبارٹری میں ہی ممکن ہوتا ہے، نمونہ بھجوائے جانے کے بعد مختلف مشینوں کی مدد سے اس کا جینیاتی مشاہدہ کیا جاتا ہے اور ایک لمبے پراسس کے بعد جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کو ڈی این اے پروفائل کہا جاتا ہے۔

3 میں جیمز واٹسن اور فرانسس کریک نے ڈی این اے کے حوالے سے ہونے والی تحقیق میں اہم کامیابی حاصل کی تھی (فوٹو: سائنس ہسٹری)

رزلٹ کتنا قابل بھروسہ ہوتا ہے؟

شعبہ طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درست طور پر اور معیاری مشینوں کے ذریعے کیے گئے ڈی این اے کے رزلٹ 99 فیصد تک درست ہوتے ہیں، تاہم سیمپل کی حیثیت، درست آلات کا عدم استعمال اور بعض دوسری چیزیں اس کے رزلٹ کی کامیاب کے امکانات کو کم کر سکتی ہیں۔

رزلٹ کیا کچھ بتاتا ہے؟

ڈی این اے کے ذریعے قریبی رشتہ داروں کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کن جغرافیائی نسلوں یا خطوں سے تعلق رکھتا ہے۔
مثال کے طور پر اس کی بدولت یہ تعین کیا جا سکتا ہے کوئی شخص جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتا ہے یا مشرق وسطیٰ سے، اسی طرح امریکہ، افریقہ یا دوسرے خطوں سے تعلق بھی ثابت ہوتا ہے۔

ٹیسٹ کی بدولت انسان کے آباؤاجداد، نسل اور خطے کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے (فوٹو: سائنس ہسٹری)

بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص کے لیے معاون

یہ صرف کسی شخص کے کسی خاندان یا علاقے سے تعلق کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ بہت سی بیماریوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے جیسا کہ تھیلی سیمیا، کینسرز وغیرہ، اسی طرح دوسری خاندانی بیماریوں کے بارے میں بھی وقت سے پہلے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن سے احتیاط کی صورت میں بچا جا سکتا ہے۔

آر این اے اور ڈی این اے میں فرق

عام طور پر ان دونوں کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے اور یہ کافی حد تک ملتے جلتے ہیں اور ان کا رزلٹ بھی قریب قریب ہوتا ہے تاہم کچھ ماہرین ان میں معمولی فرق کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔
جینومکس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ دونوں کا کام ایک سا ہی ہے مگر ساخت میں فرق ہے ڈی این اے میں شامل مالیکیولز کو ’ڈبل سٹرینڈڈ‘ کہا جاتا ہے اور یہ زنجیر کی طرح ایک دوسرے سے آر پار ہوتے ہیں اور سیڑھی کی طرح دکھائی دیتے ہیں جبکہ آر این اے میں مالیکیول سنگل سٹرینڈڈ ہوتے ہیں۔
یہ انتہائی اہم دریافت ایک صدی سے زائد عرصے میں موجودہ مقام تک پہنچی ہے جبکہ اس پر مزید تحقیق کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

شیئر: