بلوچستان کے ضلع ژوب میں زیتون کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر 18 گھنٹے بعد قابو پالیا گیا تاہم آگ نے جنگل کے سو ایکڑ سے زائد رقبے کو نقصان پہنچایا۔
مقامی لوگوں کے مطابق ژوب کے علاقے عثمان زئی بابڑ میں الگڈ کے مقام پر بدھ کی شام چار بجے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے شعلے کئی کلومیٹر دور سے بھی واضح دیکھے جاسکتے تھے۔
علاقے میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی رضا کار تنظیم ’اشر تحریک‘ کے کارکن اور عینی شاہد قطب خان آفاقی نے اردونیوز کو بتایا کہ آگ تقریباً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر پہاڑ کی چوٹی پر لگی تھی جہاں تک رسائی اور آگ پر قابو پانے میں مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد قریبی دیہاتوں کے لوگوں اور محکمہ جنگلات سے مدد طلب کی گئی۔
مزید پڑھیں
-

-

پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، وجوہات کیا ہیں؟
Node ID: 898064
-

محکمہ جنگلات ژوب ڈویژن کے کنزویٹر سید شراف الدین آغا نے اردو نیوز کو بتایا کہ بدھ کی شب آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ڈی ایف او ژوب کی سربراہی میں محکمہ جنگلات کی ٹیم روانہ ہوئی اور رات ساڑھے تین بجے تک آگ بجھانے میں مصروف رہی۔
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح بھی جنگلات کے آفیسران اور فیلڈاسٹاف نے دوبارہ ژوب کے اس دشوارگزار پہاڑی سلسلوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھیں اور بالآخر صبح دس بجے آگ پر قابو پا لیا گیا۔
محکمہ جنگلات کے افسر کے مطابق آگ بجھانے کے عمل میں محکمہ جنگلات ژوب اور شیرانی کے 28 اہلکاروں اور مقامی پولیس کے علاوہ مقامی لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات ژوب کا عملہ اور مقامی لوگ ایک سے دو روز علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ دوبارہ آگ نہ بھڑک سکے۔
سید شراف الدین آغا کے مطابق آگ نے تقریباً سو ایکڑ سے زائد رقبے کو لپیٹ میں لیا۔ زیتون کے کچھ درخت جل گئے ہیں تاہم زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ زیادہ تر جڑی بوٹیاں اور گھاس تباہ ہوئی ہیں جو جنگلات کے قدرتی ماحولیاتی کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محکمہ جنگلات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چند مقامی نوجوانوں نے پہاڑ کی چوٹی کے قریب جنگل میں سانپ مارنے کے بعد اسے جلانے کے لیے آگ لگائی تھی۔ بعد میں یہ آگ ہوا کی وجہ سے پھیلی۔
بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر زیتون اور چلغوزے کے قدرتی جنگلات پائے جاتے ہیں جن میں آگ لگنے کے واقعات اب معمول بنتے جارہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے بھی شیرانی کے علاقے احمدی درگاہ میں آگ لگنے سے 650 ایکڑ جنگلات کو نقصان پہنچا۔
محکمہ جنگلات ژوب ڈویژن کے کنزرویٹر سید شراف الدین آغا کا کہنا ہے کہ اس سال بارشیں کم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے گھاس اور جڑی بوٹیاں خشک ہوچکی ہیں اس لیے معمولی آگ بھی بڑی آگ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
ان کے بقول صرف ایک ماہ میں ژوب اور شیرانی میں جنگلات میں آگ لگنے کے دس سے زائد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
2022 میں بھی ژوب سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع شیرانی میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں واقع چلغوزے کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر دو ہفتوں بعد قابو پایا گیا تاہم اس آگ نے پانچ ہزار ہیکٹر یعنی بارہ ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے لاکھوں درختوں کوتباہ کردیا تھا۔ نقصان کا تخمینہ اربوں روپے میں لگایا گیا تھا۔
سید شراف آغا کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی ہے، زیادہ ترآگ کے واقعات پہاڑوں کی چوٹیوں میں چھ سات ہزار فٹ کی بلندی پر لگتی ہے جہاں تک پہنچنے میں ہی آدھا دن لگ جاتا ہے جبکہ وہاں تک آگ بجھانے کے آلات پہنچانا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے پاس کوئی طیارہ نہیں۔ 2022 میں بھی آگ بجھانے کے لیے ہمسایہ ملک ایران سے فائر فائٹر طیارہ بلایا گیا تھا۔
ان کے مطابق زیتون اور چلغوزے کے قیمتی جنگلات میں آگ بھڑکنے کے زیادہ واقعات انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ سرد موسم میں بعض چرواہے خود کو گرم رکھنے کے لیے یا پھر پکنک کے لیے آنے والے لوگ کھانا پکانے کے لیے جنگلات میں آگ لگاتے ہیں۔
خشک پتے، گھاس اور جڑی بوٹیاں تیزی سے آگ پکڑ لیتی ہیں اور ہوا کی وجہ سے تیزی سے آگے پھیل جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام اور چرواہے جنگلات میں آگ جلانے سے گریز کریں کیونکہ جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔










