Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: دہکتے کوئلوں پر چلنے کی سزا، 6 افراد گرفتار، ’چربیلی‘ کی رسم کیا ہے؟

چربیلی کی رسم کا یہ واقعہ اتوار کو موسیٰ خیل سے قریباً 70 کلومیٹر دُور کوٹ خان محمد تلہاڑ میں پیش آیا (فائل فوٹو: پِکسابے)
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں غیر انسانی رسم ’چربیلی‘ کے تحت لوگوں کو دہکتے کوئلوں پر چلنے پر مجبور کرنے کے واقعے کے بعد لیویز نے چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے اردو نیوز کو بتایا کہ گرفتار ملزمان میں آگ جلانے اور رسم کی ادائیگی میں معاونت کرنے والے افراد شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’چوری کا الزام لگانے والے دکان دار سمیت دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔‘
یہ واقعہ اتوار کو موسیٰ خیل سے قریباً 70 کلومیٹر دُور کوٹ خان محمد تلہاڑ میں پیش آیا، تاہم انتظامیہ نے کارروائی اس وقت کی جب واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
علاقے کے لیویز انچارج سعداللہ کے مطابق یہ معاملہ ایک دکان دار گلا خان کی دکان میں یکم دسمبر کو ہونے والی چوری کے بعد شروع ہوا۔ 
دکان دار کے مطابق اس کی دکان سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی چوری ہوئی جس کا الزام انہوں نے اپنے ہی قبیلے کے آٹھ مقامی افراد پر لگایا، تاہم ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ’دکان سے صرف 20 ہزار روپے کی چوری ہوئی۔‘
ایک مقامی شخص نے بتایا کہ الزام کا سامنا کرنے والوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی مگر گلا خان کا اصرار تھا کہ یہ افراد ہی چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ’چربیلی‘ کی رسم کے ذریعے معاملہ حل کیا جائے۔
اس رسم کے تحت تمام آٹھ افراد کو دہکتے کوئلوں پر ننگے پاؤں چلنے پر مجبور کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق تمام افراد 8 سے 10 فٹ لمبے گڑھے میں دہکتے کوئلوں پر چلتے ہوئے ایک سے دوسرے کنارے تک پہنچے اور ان کے پاؤں پر کوئی چھالے یا جلنے کے نشانات نظر نہیں آئے اس طرح وہ بے گناہ قرار پائے۔
یہ منظر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جس میں درجنوں افراد اردگرد کھڑے یا بیٹھے اس عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کے مطابق یہ کارروائی گاؤں کی سطح پر ہونے والے ایک مقامی غیر قانونی جرگے کے ذریعے کی گئی جس میں کوئی اہم قبائلی شخصیت شامل نہیں تھی۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ’چوری کا الزام لگانے والے دکان دار اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید بتایا کہ قانون اور شریعت دونوں میں ایسی کسی فرسودہ رسم کی اجازت نہیں۔ یہ دُوردراز اور پہاڑی علاقہ ہے اس لیے انتظامیہ کو بعد میں اس واقعے کا علم ہوا۔ جیسے ہی اطلاع ملی اس پر فوری کارروائی کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دکان دار اور الزام کا سامنا کرنے والے تمام افراد پشتون حمزہ زئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور اس قبیلے میں اس رسم کا کوئی رواج نہیں ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔
مقامی لیویز کے مطابق اس رسم کی ادائیگی کے لیے ضلع میں رہنے والے بلوچ قبیلے کے افراد کو بلایا گیا تھا جن میں یہ رسم پائی جاتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کر کے مرکزی ملزم اور ان کے تین معاونین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دکان دار اور باقی مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
ان کے مطابق ’یہ پنجاب کی سرحد سے متصل علاقہ ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ ملزمان پنجاب فرار ہوگئے ہیں، تاہم ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔‘
 دہکتے کوئلوں پر چلنے کی رسم ’چربیلی‘، ’چر‘ یا ’سکھ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور ڈیرہ بگٹی، کوہلو، سِبی، نصیرآباد، جعفرآباد سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع اور پنجاب و سندھ کے بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

 گرفتار کیے گئے ملزمان آگ جلانے اور رسم کی ادائیگی میں معاونت کرنے میں شامل تھے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

صوبے کے ان علاقوں میں عموماً یہ رسم چوری، کاروکاری یا قتل کے الزامات میں فیصلہ نہ ہونے پر ادا کی جاتی ہے۔
اس رسم کے لیے 10 سے 12 فٹ لمبا، اڑھائی فٹ چوڑا اور قریباً دو فٹ گہرا گڑھا کھودا جاتا ہے جس میں آگ جلانے کے بعد تازہ انگاروں کی آگ کو قرآن کی قسم دی جاتی ہے کہ جو مجرم ہو اسے پکڑنا اور جو بے گناہ ہو اس کے پاؤں نہ جلانا۔
انگار پر چلنے والے شخص کے پاؤں کو بکری کے خون میں دھویا جاتا ہے، اس کے بعد پاؤں میں چھالے پڑنے کی صورت میں اُسے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اگر جلنے کے نشانات یا چھالے نہ پڑیں تو اسے بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عالمی و ملکی قوانین کے تحت عدالت میں الزام ثابت ہونے تک الزام کا سامنا کرنے والے بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں، مگر ایسی رسومات اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے اسے ’غیر انسانی، ظالمانہ اور عقل سے عاری عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی عقلی یا سائنسی توجیح ممکن نہیں۔ قانون میں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے کارکن طاہر حبیب نے کہا کہ جرگوں کے ذریعے ایسے فیصلے پاکستان کے آئین اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ 
ان کے مطابق عدالتوں تک رسائی نہ ہونے، انصاف میں تاخیر اور ریاستی نظام کی خامیوں کے باعث لوگ چربیلی جیسے غیر رسمی طریقوں کا سہارا لیتے ہیں.

وزیراعلٰی نے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)

’قانون میں ایسی رسموں یا طریقوں کی کوئی اجازت نہیں۔ ایسے واقعات ماضی کے مقابلے میں کم ضرور ہوئے ہیں مگر دُوردراز علاقوں میں اب بھی پیش آتے ہیں۔‘
سندھ جوڈیشل اکیڈمی، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور یونیسف کے ایک مشترکہ مطالعے میں بھی کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، عدالتی تاخیر، اخراجات، بدعنوانی، اعتماد اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کی عدم موجودگی کے باعث لوگ جرگہ، پنچایت اور دیگر غیر رسمی انصاف کے طریقوں کا سہارا لیتے ہییں۔
حبیب طاہر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ 1976 میں سرداری نظام ختم کر دیا گیا تھا، اب کوئی شخص یا جرگہ کسی شخص کو سزا نہیں دے سکتا۔ 
’حکومت کو چاہیے کہ ایسے فیصلے کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عدالتی نظام کو مؤثر بنائے تاکہ لوگ متبادل غیر رسمی نظام کی طرف نہ جائیں۔‘
وزیراعلٰی سرفراز بگٹی کا نوٹس
وزیراعلیٰ سیکریٹیریٹ سے جاری بیان کے مطابق اس انسانیت سوز واقعے پر وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
’بعدازاں ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھ مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید دو ملزمان کی نشان دہی کرلی گئی ہے جنہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔‘

شیئر: