Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوڈان کے جنرل عبدالفتاح البرہان امن کے لیے ٹرمپ سے بات چیت کے لیے تیار

اپریل 2023 سے سوڈان ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سوڈان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے حکمران جنرل عبدالفتاح البرہان سوڈان کے تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب آرمی چیف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض کا دورہ کیا، جنہوں نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران ٹرمپ کو سوڈان کے لیے مجوزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔
سوڈان کے بیان کے مطابق، جنرل البرہان نے ٹرمپ کے اس عزم کی تعریف کی کہ وہ سعودی عرب کی شمولیت کے ساتھ ملک میں امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور امریکی ایلچی مسعد بولوس کا حوالہ دے کر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انہوں نے اس عظیم اور بلاشبہٰ قابلِ تحسین مقصد کے حصول کے لیے صدر ٹرمپ، ان کے وزیرِ خارجہ اور سوڈان کے لیے خصوصی ایلچی کے ساتھ کام کرنے میں سوڈان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔‘
 امریکہ، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ثالثوں کی قیادت میں بین الاقوامی امن کی کوششیں اس وقت تعطل کا شکار ہیں، جب البرہان نے بولوس کے پیش کردہ آخری مجوزہ فریم ورک کو مسترد کر دیا تھا۔
ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی جنگ بندی منصوبے کی حمایت کرتی ہیں، لیکن شدید لڑائی خصوصاً جنوبی علاقے کردوفان میں جاری ہے۔
فی الحال مذاکرات کے لیے نہ ہی امریکی قیادت میں ہونے والی ثالثی کوششوں کے تحت اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت متوازی کوششوں کے تحت کسی نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔
اپریل 2023 سے سوڈان ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں ہے جس میں ملک کے شمال اور مشرق پر قابض فوج اور مغرب اور جنوب کے بعض علاقوں میں غالب آر ایس ایف آمنے سامنے ہیں۔
اس تنازع میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ ’دنیا کا بدترین انسانی بحران‘ بن چکا ہے۔

شیئر: