جازان کی روایتی دستکاریاں: کاریگروں کی قدیم مہارتوں پر فخر
جازان کو اپنے زرخیز دستی ہنر کے ورثے پر فخر ہے جس نے کئی ایسی صدیاں دیکھی ہیں جن میں لوگوں نے لکڑی، کھجور کے درخت کے پتوں، چمڑے، پتھر اور مٹی سے اوزار بنائے اور اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے رہے۔
ایس پی اے کے مطابق قدیم زمانے سے جازان میں بسنے والے ان لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات میں دو وقت کا کھانا مہیا کرنا، پینے کے لیے پانی کا انتظام کرنا، چیزوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سٹوریج اور نقل و حرکت کا بندوبست کرنا اہم ضرورتوں میں شامل تھا۔
تاہم ہاتھ سے بنی ہوئی چیزیں، علاقے کے متنوع لینڈ سکیپ کے بعد سے ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اس زمانے کے لوگوں کی روزانہ کی زندگی کا معمول بن گئیں جس نے ان اشیا کے بنانے والوں کے تجربات کو مجسم شکل میں تبدیل کر دیا۔
یہ ہنر ضرورت نے پیدا کیے تھے جن میں ان افراد کے ماحول میں موجود قدرتی میٹیرل پر انحصار کیا جاتا تھا۔
لکڑی سے برتن بنائے گئے تو بعد میں ان پر کشیدہ کاری ہونے لگی۔ کچھ برتنوں کو کھجور کے درخت کے پتوں یا تنے سے حاصل ہونے والی لکڑی سے بنایا جاتا تھا۔

کچھ کو مٹی سے شکل دی جاتی۔ کہیں دھاگے سے کشیدہ کاری کا کام لیا جاتا۔ اس طرح قدیم جازان میں ہنر کا ایک منظم سلسلہ شروع ہو گیا جسے گھروں میں عام استعمال کیا جاتا تھا۔
گھروں کے علاوہ ہاتھوں سے بنی ہوئی یہ اشیا رفتہ رفتہ کھیتوں اور کھلیانوں میں بھی دکھائی دینے لگیں۔
وقت گزرتا رہا اور یہ امور لوگوں کی زندگی کا لازمی حصہ بنتے چلے گئے جس سے ان کے اپنی زمین سے گہرے تعلق اور انسانی مہارت کا بھر پور اظہار ہونے لگا۔

جازان کے پہاڑوں میں فنکاروں نے چمڑے اور کھالوں کے کام میں شاندار ہنر دکھائے اور لکڑی کے بہترین برتن بنائے۔
ساتھ ساتھ انھوں نے زراعت کے لیے روایتی اوزار بھی بنانے شروع کیے۔ اسی دوران خواتین نے بھی اپنے ہنر آزمائے اور خوبصورتی کے ساتھ بنی ہوئی جیولری کے زیورات سامنے آنے لگے۔
دیہی ماحول میں کھجور کے پتوں اور مٹی کے ذریعے چیزیں بنا کر کمال دکھایا گیا۔

فنکاروں نے ٹوکریاں بنائیں، بیٹھنے کے لیے چٹائیاں تیار کیں اور چیزیں سنبھال کر رکھنے کے لیے کنٹینر بنائے۔ ان کی چیزیں بنانے کی تکنیک بہت زبردست ہوتی تھی جس سے ان کے ہنر کی نمائش بھی ہو جاتی تھی۔
کھانے پکانے کے برتنوں اور مٹی سے بنائے گئے دیگر ظروف بھی بڑی احتیاط کے ساتھ تیار کیے جاتے تھے جس سے بنانے والوں کی کاریگری اپنے کمال کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
ساحلی علاقوں میں رہنے والے اپنے ہنر کو لکڑی کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں اور چپو تیار کر کے لوگوں کے سامنے لائے۔

ان لوگوں نے مچھلیاں پکڑنے کے جال اور دیگر آلات بنائے۔ یہی لوگ تھے جنھوں نے سمندر سے نکلنے والی سیپیوں پر خوبصورتی کا رنگ چڑھایا اور انہیں چھوٹی چھوٹی خوبصورت سجاوٹی اشیا میں بدل دیا۔ یہیں سے ان کے سمندر اور ساحلوں پر چلنے والی ہواؤں کے ساتھ ایک لازوال رشتے کی جھلک بھی ملتی ہے۔
آج جازان میں خواتین اور مرد کاریگر وہی قدیم مہارتیں مقبولِ عام مارکیٹوں اور فیسٹیولز میں پیش کرتے ہیں۔

البتہ انھیں اب تربیت کے مواقع بھی حاصل ہیں اور وزارتِ ثقافت کی طرف سے تعاون کے طور پر اس ہنر کو آگے بڑھانے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت میں اپنا شیئر ڈالنے کے لیے اب مختلف انشیٹیوز بھی اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں۔
یہ کوششیں، دستکاری کی اشیا کی دنیا میں وسعت پا چکی ہیں اور اپنے بنانے والوں کے لیے تعاون فراہم کرتی ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ کوششیں مستقبل کی نسلوں کے لیے اس ورثے کے تحفظ بھی ہیں اور اپنے علاقے کے فنکاروں اور ہنرمندوں کی شناخت کی حفاظت کا کام بھی دے رہی ہیں۔
