Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سُتھرا پنجاب‘ کا ملازم جھاڑو چھوڑ کر بابو کیسے بنا؟

’سُتھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت صوبے کے شہروں میں صفائی کا نظام قائم کیا گیا۔ فائل فوٹو: پنجاب حکومت
پنجاب کے ضلع و تحصیل مظفرگڑھ کی یونین کونسل کرم داد قریشی سے تعلق رکھنے والے غلام یاسین رواں برس اگست میں ’ستھرا پنجاب‘ کی ٹیم میں بطور سینیٹری ورکر بھرتی ہوئے۔
انہوں نے مختلف جامعات سے ایم ایس سی سوشیالوجی، ایم اے انگلش اور بی ایڈ کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ وہ کئی برس تک مقامی سطح پر نجی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس سے بھی منسلک رہے تاہم حالات کی وجہ سے وہ اب اپنے علاقے میں ہی ستھرا پنجاب کی ٹیم میں شامل ہو کر صفائی کا کام کرتے ہیں۔
اصغر گرمانی سرائیکی زبان کے شاعر اور مصنف ہیں۔ اپنے علاقے میں انہیں ایک حساس، پڑھنے لکھنے اور سماجی شعور رکھنے والے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں جب وہ اپنی پینٹ کی دکان پر بیٹھے تھے تو جھاڑو لگاتے ہوئے غلام یاسین وہاں سے گزرے۔ اصغر گرمانی نے انہیں اندر آنے کے لیے آواز دی۔
غلام یاسین سے پہلی ملاقات کے بارے میں اصغر گرمانی بتاتے ہیں کہ ’جب وہ اندر آئے تو میں نے ویسے ہی باتوں باتوں میں ان کے کام، تعلیم اور زندگی کے بارے میں پوچھ لیا۔ تب جو کچھ انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے لگا یہ جب جھاڑو لگاتے ہیں تو یہ زمین سے گرد نہیں بلکہ وقت کی بے حسی سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔‘
غلام یاسین نے سنہ 2007 میں میٹرک، 2009 میں انٹر، 2011 میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بی اے، 2014 میں ایم ایس سی سوشیالوجی، 2019 میں انسٹیٹیوٹ آف سدرن پنجاب سے ایم اے انگلش اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اصغر گرمانی کے بقول ’انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی تمام تعلیمی اسناد کے ساتھ بارہا افسران بالا کو درخواستیں بھیج چکے ہیں کہ کم از کم اسی محکمے میں کوئی بہتر کام دے دیا جائے لیکن نہ کبھی جواب آیا اور نہ کسی نے پوچھا۔‘
غلام یاسین چار بیٹیوں کے باپ ہیں۔ وہ روزانہ اپنے علاقے میں جھاڑو لگاتے ہیں اور گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا ’میری چاروں بیٹیاں زیرِتعلیم ہیں۔ پہلے میں نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتا تھا لیکن وہاں تنخواہ تاخیر سے ملتی تھی اور بہت کم تھی جس کی وجہ سے میں کوئی اور کام ڈھونڈ رہا تھا۔ رواں سال جب ستھرا پنجاب میں بھرتیاں ہونے لگی تو میں نے وہاں اپلائی کیا۔‘ 

نجی تعلیمی اداروں میں میں تنخواہ دیر سے ملنے کے باعث غلام یاسین نے ستھرا پنجاب میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا۔ فوٹو: اردو نیوز

اصغر گرمانی نے غلام یاسین کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد ایک تصویر بنا کر فیس بک پر اپلوڈ کی۔ ’میں نے ان سے اجازت لے کر ایک تصویر بنائی اور فیس بک پر پوسٹ کر دی۔ میں نے صرف اتنا لکھا کہ یہ پڑھے لکھے ہیں، ان کے پاس اس طرح کی ڈگریاں ہیں اور یہ کام کر رہے ہیں۔‘
تحصیل مظفرگڑھ کی یونین کونسل کرم داد قریشی کوئی بڑا شہر یا قصبہ نہیں بلکہ اکثر اسے موضع لکھا جاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر سکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف) سے رجسٹرڈ ہیں جہاں فیس نہیں لی جاتی جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم دیگر شہروں جیسا نہیں۔
اصغر گرمانی اس پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہاں لوگ بچوں کی سکول فیس تک افورڈ نہیں کر سکتے تو وہ ٹیوشن کہاں سے پڑھائیں گے؟ بڑے شہروں کی طرح یہاں پڑھا لکھا آدمی ٹیوشن پڑھا کر روزی نہیں کما سکتا۔ اس لیے غلام یاسین کے لیے بھی درس و تدریس کے ذریعے کچھ کمانا مشکل رہا۔‘
نجی سکولوں اور اکیڈمیوں میں پڑھانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’اکثر چار چار ماہ تک تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ گھر کے حالات خراب تھے، بچوں کو پالنا تھا، اس لیے جب موقع ملا پڑھاتے رہے۔‘ 
درس و تدریس میں تنخواہ دیر سے ملنے کے بعد انہوں نے ستھرا پنجاب میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ’میں نے ستھرا پنجاب میں اس لیے ملازمت اختیار کی کہ کم از کم ہر ماہ تنخواہ تو ملتی ہے۔ یہاں آنے کے بعد ماہانہ رقم باقاعدگی سے مل جاتی ہے۔‘ 
جھاڑو لگانا ان کی مجبوری تھی لیکن ان کی عزت نفس پر اس کے گہرے اثرات پڑے۔ وہ اس حوالے سے بتاتے ہیں ’جب جھاڑو لگاتا تھا تو شاگرد دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ سر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ میں بس یہی کہتا تھا کہ بچے ہیں، ان کو پالنا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ان کی مختصر کہانی خوب وائرل ہوئی جس کے بعد اگلے ہی روز غلام یاسین اصغر گرمانی کے پاس آئے۔ ان کے چہرے پر پہلی بار امید دکھائی دے رہی تھی۔

غلام یاسین نے سنہ 2014 میں ایم ایس سی سوشیالوجی کیا۔ فوٹو: اردو نیوز

انہوں نے اصغر گرمانی کو بتایا کہ ایک سینیئر افسر کی کال آئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انہیں کمپلینٹ سیل میں لگایا جا رہا ہے تاکہ اب انہیں جھاڑو نہ لگانا پڑے۔
اس حوالے سے غلام یاسین بتاتے ہیں کہ ’چند دن بعد مجھے مظفر گڑھ آفس بلا لیا گیا۔ سینیئر افسران سے ملاقات ہوئی اور مجھے نسبتاً بہتر جگہ پر تعینات کر دیا گیا۔ سپروائزر خود اصغر گرمانی کی دکان پر آئے تھے اور بتایا کہ غلام یاسین کو اب جھاڑو کے کام سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘ 
غلام یاسین ستھرا پنجاب میں آئی ٹی سے متعلق کمپلینٹ سیل میں رکھا گیا ہے جہاں وہ سینیٹری ورکرز کے مسائل سنتے اور حل کرتے ہیں۔ ’کسی کو وردی چاہیے، کسی کو جوتے، کسی کی پینلٹی کا مسئلہ ہو، وہ سب میرے پاس آتے ہیں۔‘ 
اگرچہ سکیل اور تنخواہ اب بھی کلاس فور کی ہے لیکن غلام یاسین کے مطابق وہ کسی حد تک مطمئن ہیں۔ ’مجھے کہا گیا ہے کہ آپ کی کوالیفیکیشن اچھی ہے۔ آگے کسی بہتر جگہ پر رکھا جائے گا۔‘ 
اصغر گرمانی کہتے ہیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ اب یاسین جھاڑو نہیں دیتا، وردی نہیں پہنتا، اب وہ بابو بن گیا ہے۔‘

 

شیئر: