Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

50 ہزار کلومیٹر ریل نیٹ ورک: چین کی تیز رفتار ٹرین جاپان کی شنکانسین سے بھی آگے نکل گئی

 شی آن اور یان آن کے درمیان نئی ریلوے لائن کی کل لمبائی 299 کلومیٹر ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین  کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسیع و عریض ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک نے جمعے کے روز ایک نئی لائن کے افتتاح کے ساتھ مجموعی طور پر 50 ہزار کلومیٹر  کی فعال آپریٹنگ حد عبور کر لی ہے۔
چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ریل نیٹ ورک رکھتا ہے جو زمین کے محیط سے بھی تقریباً پانچواں حصہ زیادہ طویل ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق اس نئے سفر کا آغاز شہر شی آن سے ہوتا ہے اور یہ شمال میں واقع شہر یان آن پر ختم ہوتا ہے۔ دونوں شہر شمالی چین کے صوبے شانشی میں واقع ہیں۔
مقامی حکام نے 2020 میں اس منصوبے کی تعمیر کے آغاز کے وقت بتایا تھا کہ اس کی تعمیر کے دوران بعض مکانات مسمار کیے گئے اور متاثرہ رہائشیوں کو منتقلی کے لیے فی گھرانہ 5 ہزار یوآن (تقریباً 700 ڈالر) دیے جائیں گے۔
سرکاری کمپنی چائنا ریلوے نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ 2020 کے مقابلے میں چین کے ریل نیٹ ورک میں تقریباً 32 فیصد توسیع ہو چکی ہے۔
سی سی ٹی وی کے مطابق شی آن اور یان آن کے درمیان نئی ریلوے لائن کی کل لمبائی 299 کلومیٹر ہے اور اس پر تیز ترین ٹرین کے ذریعے یہ فاصلہ کم سے کم 68 منٹ میں طے کیا جا سکتا ہے۔
اس روٹ پر چلنے والی C9309 ٹرین کی رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ  ہے جو جاپان کی شِنکانسین ٹرین سے بھی زیادہ تیز رفتار ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
بیجنگ نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی ریلوے منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں سے متعدد منصوبے تعطل کا شکار رہے ہیں یا تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔

شیئر: