شریف عثمان ہادی کے مبینہ قاتلوں کے انڈیا فرار ہونے کے شواہد مل گئے: ڈھاکہ پولیس
شریف عثمان ہادی کے مبینہ قاتلوں کے انڈیا فرار ہونے کے شواہد مل گئے: ڈھاکہ پولیس
اتوار 28 دسمبر 2025 15:06
شریف عثمان ہادی اگلے عام انتخابات میں حصہ لینے والے تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
بنگلہ دیش کی پولیس نے کہا ہے کہ مشہور طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے مبینہ قاتل انڈیا فرار ہو گئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس کے اس بیان کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ کا خدشہ ہے۔
شریف عثمان ہادی جو پڑوسی ملک انڈیا کے ناقد تھے، گزشتہ برس شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والی طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما تھے۔ اُن کو رواں ماہ کے اوائل میں نامعلوم نقاب پوش حملوں آوروں نے ڈھاکہ میں نشانہ بنایا تھا۔
فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔
شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد پرتشدد مظاہروں میں مشتعل ہجوم نے کئی عمارتوں کو نذر آتش کر دیا تھا، ان میں دو بڑے اخبارات کی بلڈنگز بھی شامل تھیں جو انڈیا کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ملک بھر میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے مظاہروں کے باعث بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
شریف عثمان ہادی اگلے سال فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے تھے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ایک سینیئر افسر ایس این نذر الاسلام نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’قتل پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق تھا۔ اس کے پیچھے کارندوں کی شناخت ہو گئی ہے۔‘
پولیس افسر نے بتایا کہ مشتبہ افراد فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ 12 دسمبر کو ہادی پر حملہ کرنے کے فوراً بعد انڈیا کے ساتھ حلوا گھاٹ بارڈر کراسنگ کے ذریعے بنگلہ دیش چھوڑ گئے تھے۔
سرحد پر ان کا استقبال دو انڈین شہریوں نے کیا جو انہیں شمال مشرقی ریاست میگھالیہ لے گئے اور اس کے بعد اُن کو آگے ساتھیوں کے حوالے کیا گیا۔
ایس این نذر الاسلام نے کہا کہ بنگلہ دیشی تفتیش کار اپنے ہندوستانی ہم منصبوں سے رابطے میں تھے جنہوں نے حملہ آوروں کے دو مشتبہ ساتھیوں کو گرفتار کیا۔
حسینہ واجد کے انڈیا میں پناہ لینے کے بعد سے پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم میگھالیہ پولیس سے بات کر رہے ہیں، جس نے دو انڈین شہریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔‘
میگھالیہ کے دو سینیئر پولیس افسران نے تاہم اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
انڈین وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ شریف عثمان ہادی کے قتل میں نئی دہلی کے ملوث ہونے کے بارے میں ’غلط بیانیے‘ کو مسترد کرتے ہیں۔
برطرف بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے انڈیا میں پناہ لینے کے بعد سے پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔
انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے ڈھاکہ کی درخواستوں پر غور کر رہا ہے۔ حسینہ واجد کو ڈھاکہ میں ایک ٹریبیونل نے احتجاجی طلبہ کی تحریک پر مہلک کریک ڈاؤن کا قصوروار قرار دیتے ہوئے اُن کی غیرموجودگی میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔