شہروں کو صرف عمارتوں، سڑکوں اور بازاروں کا مجموعہ سمجھنا بہت بڑی خام خیالی ہے۔
شہر انسانوں، جانوروں اور پودوں کے باہمی رشتوں سے جڑی ایک جیتی جاگتی، سانس لیتی زندہ اکائی ہیں۔ ان اکائیوں کو متوازن رکھنے میں درخت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
درخت نہ صرف فضاء کو صاف ستھرا رکھتے ہیں بلکہ شہروں کے درجۂ حرارت، فضاء کا معیار، حیاتیاتی تنوع اور انسانی صحت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ فضا میں موجود نقصان دہ گیسوں، دھول اور فضائی آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ شہروں میں بڑھتا ہوا سموگ اور سانس کی بیماریاں اسی وقت کم ہوسکتی ہیں جب شہروں میں جنگلات اور درخت زیادہ ہوں گے۔
مزید پڑھیں
-
لاہور کا تاریخی موچی دروازہ جہاں ’اب صرف یادیں ہیں‘Node ID: 896903
بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ترقی کے نام پر سب سے پہلے درختوں کو قربان کیا جاتا ہے۔ سڑک کی توسیع ہو، میٹرو سسٹم بن رہا ہو یا نئی ہاؤسنگ سکیمیں، درخت کاٹ دینا سب سے آسان حل سمجھا جاتا ہے۔
آج یہی سب ناصر باغ لاہور کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے۔ بہت سی جگہیں اپنی تاریخ، ثقافت اور فطرت سے پہچانی جاتی ہیں۔ ناصر باغ بھی ایسی ہی ایک علامت ہے۔ اس باغ میں پارکنگ پلازہ پراجیکٹ کے لیے کاٹے جانے والے درختوں پر بات کرنے سے پہلے اس باغ کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔
مال روڈ پر واقع ناصر باغ ایک ایسا مقام ہے جو لاہور کی صدیوں پرانی تہذیبی روح کا حصہ رہا ہے۔ یہ محض ایک سبزہ زار نہیں ہے بلکہ شہر کی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
یہ باغ قدیم لاہور کی شہری منصوبہ بندی، نوآبادیاتی دور کی ورکنگ کلاس بستیوں اور قیامِ پاکستان کے بعد کی شہری سرگرمیوں کا گواہ ہے۔ ناصر باغ نے ہمیشہ سیاسی، سماجی اور ادبی تحریکوں کی میزبانی کی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جلسے جلوس ہوئے، احتجاج اٹھے، ادبی محفلیں سجیں، نسلیں جوان ہوئیں، طالب علموں نے اپنے خواب ترتیب دیے اور عوامی آواز نے پہچان پائی۔
اس باغ میں موجود سایہ دار، عمر رسیدہ درخت صرف ماحول کا حصہ نہیں بلکہ وہ یادوں، تجربوں اور شہری تاریخ کے امین ہیں۔ اس باغ کے بڑے، پرانے اور گھنے درخت نہ صرف ماحولیاتی ورثہ ہیں بلکہ لاہور کی شہری تاریخ کا ایک زندہ باب بھی ہیں۔ یہ باغ لاہور کی اجتماعی پہچان کا ایک مستقل حوالہ ہےایک ایسا ورثہ جسے صرف ’زمین کا ٹکڑا‘ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ حکومتی منصوبے کے مطابق ناصر باغ کے قدیم درخت کاٹ کر ایک پارکنگ پلازہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ درخت کاٹے جا رہے ہیں، سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی یہ ترقی ہے اور ترقی کے نام پر سب سے پہلے درختوں کو ہی کیوں ہدف بنایا جاتا ہے؟

دنیا بھر کے بڑے شہروں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے جیسے ٹریفک کا دباؤ، پارکنگ کی کمی، شہر کا پھیلاؤ، تو کیا دنیا ان مسائل کو ایسے ہی حل کرتی ہے جیسے ہم کر رہے ہیں؟
دنیا کے ترقی یافتہ شہر اپنے پارکوں کو قانونی تحفظ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نیویارک سنٹرل پارک اور ٹوکیو میں یونو پارک۔ ان کے علاوہ سینکڑوں ایسے پارکس ہیں جن کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے کہ پارک کے اندر کوئی نئی تعمیر، پارکنگ یا کمرشل سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ زیرِ زمین تعمیرات بھی سخت نگرانی میں ہوتی ہیں تاکہ جڑوں کو نقصان نہ ہو۔
سنگاپور، جرمنی، سویڈن، کینیڈا اور جاپان جیسے ممالک میں درخت کاٹنے کی اجازت صرف سائنسی رپورٹ اور شہری کمیشن کی منظوری سے ملتی ہے۔ اگر کسی منصوبے میں درخت خطرے میں آ جائیں تو تین اصول لاگو ہوتے ہیں
منصوبہ دوبارہ ڈیزائن کیا جائے تاکہ درخت بچ سکیں۔
اگر ممکن نہ ہو تو سائٹ تبدیل کی جائے۔
آخری قدم کے طور پر صرف نہایت کم درخت منتقل کیے جاتے ہیں۔

درختوں کو منتقل کرنا وہاں بھی ایک غیرمعمولی عمل ہے جس سے حتی الامکان بچا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے ممالک میں شہروں میں ہر ترقیاتی منصوبے کے ساتھ ایک ماحولیاتی لاگت کی رپورٹ لازمی ہوتی ہے جس میں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ
کتنے درخت متاتر ہوں گے؟
ہوا، درجہ حرارت، پرندوں اور شہری صحت پر کیا اثر پڑے گا؟
متبادل کیا ہوسکتا ہے؟

اگر کسی درخت کو ہٹانا ضروری ہو تو پہلے کم از کم 10 نئے درخت لگائے جاتے ہیں پھر پرانا درخت منتقل کیا جاتا ہے۔
اگر نقصان زیادہ ہو تو منصوبہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کے کامیاب ترقیاتی شہروں ایسا کرتے ہیں کہ پارک یا درخت متاثر ہوں تو عوامی سماعت کی جاتی ہے جس میں شہری، طلبہ، سائنس دان، ماحولیات کے ماہرین اپنی رائے دیتے ہیں اگر شہری مخالفت کریں تو منصوبہ خود بخود رُک جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بڑے تنازعات کم پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان کے پاس ماہرین ماحولیات، پالیسی فریم ورک سب موجود ہے۔ اگر کمی ہے پو صرف ترجیحات، مشاورت اور منصوبہ بندی کی ہے۔
اگر لاہور جیسے تاریخی شہر میں ترقی کرنا ہے تو یہ ترقی ایسی ہو کہ درخت بھی محفوظ رہیں، پارک بھی جیتے رہیں اور شہری سہولتیں بھی بہتر ہوں۔
دنیا نے ثابت کر دیا ہے کہ اصل ترقی وہی ہے جو فطرت کو قربان کیے بغیر آگے بڑھے!












