Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نوشہرہ میں ڈکیتی کے ’ماسٹر مائنڈ‘ سکول ٹیچر کو پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟

نیشنل بینک تاروجبہ میں ڈکیتی رواں سال جنوری میں کی گئی تھی۔ فوٹو: نوشہرہ پولیس
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی پولیس سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
پشاور اور نوشہرہ کے درمیان واقع تاروجبہ نیشنل بینک میں جنوری 2025 کے دوران ڈکیتی کے ملزمان کا سال کے آخر میں پولیس نے نہ صرف سراغ لگا لیا بلکہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
ایس پی انوسٹگیشن نوشہرہ ریشم جہانگیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک رواں سال کے آغاز میں ہونے والی ڈکیتی کا مرکزی ملزم سرکاری سکول کا ٹیچر ہے جو ایک منظم ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
ایس پی انوسٹگیشن کے مطابق بینک سے لوٹی گئی رقم میں میں سے گرفتار ڈکیت سرغنہ سے 73 لاکھ 80 ہزار روپے برآمد کر لیے گئے ہیں جبکہ باقی رقم کی ریکوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزم کا تعلق پارا چنار سے ہے جبکہ اس گینگ میں شامل اس کے دیگر ساتھیوں کا تعلق بھی ضلع کرم سے ہے جن کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جارہی ہیں۔

پولیس ایک سال کے اندر ملزم تک کیسے پہنچی؟ 

ایس پی انوسٹگیشن ریشم جہانگیر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ڈکیتی کی واردات پولیس کے لیے ایک چیلنج کیس تھا اس لیے تھا کہ اس واردات کی سی سی ٹی وی سمیت ٹھوس شواہد دستیاب نہیں تھے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود جدید طریقوں سے مرکزی ملزم کی نشاندہی کی گئی۔ 
پولیس افسر کے مطابق ملزم سے متعلق معلوم ہونے کے بعد اس کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اس کی نگرانی کی گئی۔ 
’پولیس کو اطلاع ملی کہ ماسٹر مائنڈ ملزم بینک ڈکیتی کی رقم میں سے ملا اپنا حصہ لے کر جا رہا ہے جس کے بعد پولیس ٹیم نے ناکہ بندی کر کے مسافر وین سے ملزم کو گرفتار کیا۔‘

پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم کی نشاندہی ہونے کے بعد اُس کی نگرانی کی گئی۔ فائل فوٹو

ایس ایچ او تھانہ پبی اشفاق خان کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے نہ صرف اعتراف جرم کیا بلکہ اپنے 5 دیگر ساتھیوں کے نام بھی بتا دیے جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم سرکاری سکول کا ٹیچر ہے مگر درحقیقت منظم ڈکیت گروہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔
ایس ایچ او پبی پولیس سٹیشن کا کہنا ہے کہ ملزم کے سکول ٹیچر ہونے کے باعث اس پر کسی کا شبہ نہیں ہوا۔’گرفتار ملزم نے دیگر شہروں میں بھی واداتوں کا انکشاف کیا ہے جس میں اسی گروہ کے ڈکیت ملوث رہے ہیں۔‘
نوشہرہ پولیس نے دیگر 5 ملزمان کو اشتہاری قرار دے کر ان کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ 14 جنوری 2025 کو تارو جبہ نیشنل بینک میں ڈکیتی ہوئی تھی جس میں تالے کو مشین سے توڑ کر 578 تولے سونا اور 1 کروڑ 80 لاکھ روپے نقد رقم لوٹ لی گئی تھی۔

 

شیئر: