Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کر سکتے ہیں؟

پاکستان میں موبائل فون صارفین کی ایک بڑی تعداد کسی دوسرے شخص کے نام پر جاری کی گئی سم استعمال کرتی ہے۔
ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ والد کے نام پر جاری سم بیٹے کے زیرِ استعمال ہوتی ہے، جب کہ بیٹے کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس ہو سکتی ہے۔
دوستوں کے درمیان بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں، اور بعض اوقات کسی نامعلوم صارف کے شناختی کارڈ پر جاری سمز کے استعمال کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔
تاہم اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم تیز کر دی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال نہ صرف خلافِ ضابطہ ہے بلکہ اس پر قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
پی ٹی اے نے حال ہی میں جاری کی گئی ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کیا کریں۔
اردو نیوز نے اس معاملے پر پی ٹی اے سے مزید وضاحت حاصل کی ہے، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کر سکتے ہیں، اور اگر کوئی صارف کسی دوسرے کے نام پر سم استعمال کرے تو کن امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں قانونی کارروائی کا امکان ہے یا نہیں؟
پی ٹی اے نے اس سوال کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’اصولی طور پر جب یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ ہر شہری صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کرے تو اس کا اطلاق خاندان کے تمام افراد پر بھی ہوتا ہے۔‘

پی ٹی اے صارفین کو بار بار خبردار کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کیا کریں۔ (فوٹو: فیس بک)

پی ٹی اے کے مطابق خاندانی سطح پر سم کے استعمال میں نسبتاً کم مسائل سامنے آتے ہیں، کیوں کہ گھر کے افراد ایک دوسرے کی شناخت اور سم کی رجسٹریشن کے حوالے سے آگاہ ہوتے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ مشکلات اس وقت جنم لیتی ہیں جب سم کسی دوست کے نام پر ہو یا کسی نامعلوم شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو تو ایسی صورت میں سم کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
پی ٹی اے سمجھتا ہے کہ اگر کسی سم کا غلط استعمال ہو تو اصل ملزم تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہوتی ہے۔
یوں یہ واضح ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر پی ٹی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص کے خلاف کارروائی کے پابند ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے، چاہے غیر قانونی سرگرمی کسی اور نے انجام دی ہو۔
پی ٹی اے اسی لیے صارفین کو بار بار خبردار کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کیا کریں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک شہری اپنے نام پر کتنی سمز جاری کروا سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’ایک شہری اپنے نام پر مجموعی طور پر آٹھ سمز حاصل کر سکتا ہے۔ ان میں سے تین سمز صرف اور صرف انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے محدود ہیں، جبکہ باقی پانچ سمز وائس کالز اور دیگر عام موبائل خدمات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا شناختی کارڈ نہ رکھنے والے بچے بھی سم حاصل کر سکتے ہیں؟
پی ٹی اے نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’18 سال سے کم عمر بچوں پر سم لینے کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ہر وہ بچہ جس کی بایومیٹرک معلومات نادرا کے پاس موجود ہیں، وہ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے سم حاصل کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے دیگر متعلقہ اداروں کو اعتراض ہو سکتا ہے۔‘

پی ٹی اے اسی لیے صارفین کو آگاہی فراہم کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کریں، تاکہ کسی ممکنہ قانونی مسئلے سے بچا جا سکے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز نے اس معاملے پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین سے بھی بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ پی ٹی اے کی اس آگاہی مہم کے بنیادی مقاصد کیا ہیں اور کسی دوسرے کے نام پر رجسٹرڈ سم کا غلط استعمال کن طریقوں سے ممکن ہو سکتا ہے؟
اسلام آباد میں مقیم انفارمیشن اور سائبر سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمن کے مطابق آج کے دور میں سم کا استعمال صرف فون کالز اور پیغامات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے ذریعے بینکنگ چینلز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر اہم سرگرمیاں بھی انجام دی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق اگر کوئی صارف کسی دوسرے کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں یا آن لائن بینکنگ فراڈ میں ملوث پایا جاتا ہے، تو تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص تک پہنچیں گے جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہوگی۔
اسد الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اصل ملزم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس کے برعکس وہ شخص مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہو، چاہے اس نے کوئی غیر قانونی سرگرمی انجام نہ دی ہو۔ اس صورتِ حال میں عام شہریوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نوٹس بھی موصول ہو سکتے ہیں۔‘
پی ٹی اے اسی لیے صارفین کو آگاہی فراہم کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کریں، تاکہ کسی ممکنہ قانونی مسئلے سے بچا جا سکے اور اصل مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صارفین کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں تاکہ کسی کے شناختی کارڈ پر جعلی طور پر سم جاری نہ ہو۔ علاوہ ازیں، شناختی کارڈ کی کاپیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات ضروری ہیں، تاکہ عام شہری بلاوجہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہوں اور ان کا ڈیٹا محفوظ رہے۔

شیئر: