پاکستان میں موبائل فون صارفین کی ایک بڑی تعداد کسی دوسرے شخص کے نام پر جاری کی گئی سم استعمال کرتی ہے۔
ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ والد کے نام پر جاری سم بیٹے کے زیرِ استعمال ہوتی ہے، جب کہ بیٹے کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس ہو سکتی ہے۔
دوستوں کے درمیان بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں، اور بعض اوقات کسی نامعلوم صارف کے شناختی کارڈ پر جاری سمز کے استعمال کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
نئے سال پر آن لائن فراڈ کے نئے ہتھکنڈے، صارفین کیسے بچیں؟Node ID: 898856
تاہم اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم تیز کر دی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال نہ صرف خلافِ ضابطہ ہے بلکہ اس پر قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
پی ٹی اے نے حال ہی میں جاری کی گئی ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کیا کریں۔
اردو نیوز نے اس معاملے پر پی ٹی اے سے مزید وضاحت حاصل کی ہے، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کر سکتے ہیں، اور اگر کوئی صارف کسی دوسرے کے نام پر سم استعمال کرے تو کن امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں قانونی کارروائی کا امکان ہے یا نہیں؟
پی ٹی اے نے اس سوال کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’اصولی طور پر جب یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ ہر شہری صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کرے تو اس کا اطلاق خاندان کے تمام افراد پر بھی ہوتا ہے۔‘

پی ٹی اے کے مطابق خاندانی سطح پر سم کے استعمال میں نسبتاً کم مسائل سامنے آتے ہیں، کیوں کہ گھر کے افراد ایک دوسرے کی شناخت اور سم کی رجسٹریشن کے حوالے سے آگاہ ہوتے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ مشکلات اس وقت جنم لیتی ہیں جب سم کسی دوست کے نام پر ہو یا کسی نامعلوم شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو تو ایسی صورت میں سم کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
پی ٹی اے سمجھتا ہے کہ اگر کسی سم کا غلط استعمال ہو تو اصل ملزم تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہوتی ہے۔
یوں یہ واضح ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر پی ٹی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص کے خلاف کارروائی کے پابند ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے، چاہے غیر قانونی سرگرمی کسی اور نے انجام دی ہو۔
پی ٹی اے اسی لیے صارفین کو بار بار خبردار کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کیا کریں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک شہری اپنے نام پر کتنی سمز جاری کروا سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’ایک شہری اپنے نام پر مجموعی طور پر آٹھ سمز حاصل کر سکتا ہے۔ ان میں سے تین سمز صرف اور صرف انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے محدود ہیں، جبکہ باقی پانچ سمز وائس کالز اور دیگر عام موبائل خدمات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا شناختی کارڈ نہ رکھنے والے بچے بھی سم حاصل کر سکتے ہیں؟
پی ٹی اے نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’18 سال سے کم عمر بچوں پر سم لینے کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ہر وہ بچہ جس کی بایومیٹرک معلومات نادرا کے پاس موجود ہیں، وہ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے سم حاصل کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے دیگر متعلقہ اداروں کو اعتراض ہو سکتا ہے۔‘













