Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں سعودی حکومت کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا سنگ بنیاد

دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ’سدایا‘ کے ڈیٹا سینٹر ’ھیکساگون‘ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ 
’ھیکساگون‘ ڈیٹا سینٹر 30 ملین مربع فٹ کے رقبے پر تعمیر کیا جائے گا جس کی کل گنجائش 480 میگا واٹ ہوگی۔
ایس پی اے کے مطابق ’ٹائر فایئو‘ کی عالمی رینکنگ میں دنیا کا سب سے بڑا سینٹر الیکٹرونک سروسز پر بڑھتے ہو ئے انحصار کے تناظر میں سرکاری ڈیٹا سینٹرز کے لیے اعلٰی ترین معیار، سکیورٹی اور آپریشنل تیاری کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
 تقریب میں معاون وزیر داخلہ برائے ٹیکنیکل امور شہزادہ فہد بن خالد بن فیصل، وزیر ٹیلی کمیونیکشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینیئر عبداللہ السواحہ اور دیگر اعلٰی عہدیدار بھی موجود تھے۔
سدایا کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الغامدی نے کہا کہ ’اس پروجیکٹ سے مملکت کو ڈیٹا اور اے آئی میں عالمی رہنما بننے میں مدد ملے گی۔‘
سدایا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عصام الوقیت نے سینٹر کے مستقبل کے منصوبے کے حوالے سے پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’عالمی سطح پر شروع کیا جانے والا عظیم الشان قومی منصوبہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھرپور تعاون کے نتیجے میں سامنے آیا۔ ہیکساگون ڈیٹا سینٹر کا قیام وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے جس کا مقصد ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت میں مملکت کو مثالی عالمی معیشتوں میں شامل کرنا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ خطے میں ڈیٹا سینٹر کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہوگا جسے ’ٹی آئی اے 942 ‘ کے انٹرنیشنل انجینیئرنگ سٹینڈرز کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے جو آپریشنل سسٹم کے تحت کام کرتے ہوئے تکنیکی انفراسٹرکچر کی کارگردگی کو بڑھاتا اور معیار کو یقینی بناتا ہے۔‘

ان کے مطابق ڈیٹا سینٹر ھیکساگون ماحول دوست ہے جو توانائی کی بچت اور سمارٹ کولنگ کے حوالے سے اختراعی حل کے ساتھ ساتھ جدید طریقوں کے باعث کم توانائی والی کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال پر انحصار کرتا ہے۔ سینٹر کا شمار دنیا کے سب سے بڑے گرین ڈیٹا سینٹرز میں ہو گا۔
ڈاکٹرعبداللہ الغامدی نے بتایا کہ ڈیٹا سینٹر منصوبے سے سالانہ 30 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی جس سے گھریلو پیداوار سے تقریبا 10.8 ارب ریال کی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔
’اس منصوبے سے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مملکت کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔‘

 

شیئر: