Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ جن کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر دُھوم مچا رکھی ہے

’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ نے ستمبر 2025 میں ویڈیوز بنانا شروع کی تھیں (فائل فوٹو: یوٹیوب)
پاکستان کے سوشل میڈیا سپیس پر ان دنوں ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ کی ویڈیوز ٹرینڈ کر رہی ہیں۔
’ٹک ٹاک‘، ’انسٹاگرام‘، ’یوٹیوب‘ اور ’فیس بُک‘ پر ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ کے نام سے ہینڈلز ہیں جن پر ایک خاتون اپنی روزہ مرہ کے معمولات ویلاگ کی صورت میں شیئر کرتی ہیں جس پر کروڑوں ویوز آرہے ہیں۔
گھر کی صفائی، کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو کاموں پر مبنی ویڈیوز میں وہ زیادہ تر اپنی ’باجی‘ سے متعلق بات چیت کرتی ہیں۔ باجی بظاہر وہ کردار (مالکن) ہے جس کے گھر میں ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ بطور خدمات گار خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
ان کے یوٹیوب اکاؤنٹ کے مطابق انہوں نے گذشتہ برس سات ستمبر کو پہلی ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس پر اب تک ایک لاکھ 39 ہزار 158 ویوز آئے ہیں۔
قریبا تین ماہ پر مشتمل ویلاگنگ کے اس سفر میں ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ نے کُل 91 ویڈیوز پوسٹ کی ہیں اور اب ان کی ویڈیوز کو لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔ ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ نے حالیہ دنوں میں اپنا فیس ریویل (چہرہ افشاں کرنا) کیا ہے تاہم اپنام نام اور شہر کے بارے میں نہیں بتایا۔
بعض انسٹاگرام پیجز کا دعوی ہے کہ وہ کراچی کے ڈی ایچ اے میں کام کرتی ہیں۔ ان کی ویڈیوز کے وائرل ہونے کا یہ عالم ہے کہ ’ٹک ٹاک‘ پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو نے اب تک 14.7 ملین یعنی ایک کروڑ 47 لاکھ ویوز لے رکھے ہیں جبکہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں سے کوئی ایسی نہیں ہے جس پر 10 لاکھ سے کم ویوز آئے ہوں۔

سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو نے اب تک 14.7 ملین یعنی ایک کروڑ 47 لاکھ ویوز لے رکھے ہیں (فوٹو: ٹک ٹاک)

حال ہی میں ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ نے یوٹیوب پر تفصیلی ویڈیو اپلوڈ کی ہے جس میں وہ گھر شفٹ کرنے سے متعلق بتا رہی ہیں۔
اس سے قبل دو ماہ پہلے اپلوڈ کی گئی چھ منٹ کے دورانیے کی ویڈیو میں ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ نے اپنا گھر  دکھایا تھا جس کی خستہ حالی دیکھ کر ان کے فالورز نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
ان کی وائرل ویڈیوز پر سوشل میڈیا صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ کی ویڈیوز کی پروڈکشن کوالٹی دیکھ کر بعض صارفین نے شک کا اظہار کیا تھا کہ ویڈیوز بنانے کے اس عمل میں انہیں پروڈکشن پر مہارت رکھنے والے کسی شخص کی معاونت حاصل ہے جبکہ بعض کے مطابق گھروں میں خدمات فراہم کرنے والی میڈز کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا۔
مشہور پوڈکاسٹر اور مصنف شہزاد غیاث اور یوٹیوبر عرفان جونیجو نے بھی بتیا ہے کہ وہ ’ڈی ایچ اے والی میڈ‘ کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔

شیئر: