Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شاہ سلمان مرکز غزہ میں مریضوں کے لیے لائف لائن، فلسطینی بچے کا علاج

 شاہ سلمان مرکز،غزہ میں بیمارافراد کے لیے ایک لائف لائن بن گیا ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز نے غزہ سے تعلق رکھنے والے نو سالہ فلسطینی بچے یزن سامی نسمان کے علاج کے اخراجات برداشت کرے گی، جو لمفیٹک سسٹم کے ٹیومر میں مبتلا ہے۔
 شاہ سلمان مرکز،غزہ میں شدید طبی مشکلات سے دوچار افراد کے لیے ایک لائف لائن بن گیا ہے۔
یاد رہے غزہ میں 2023 سے اسرائیلی جارحیت نے طبی سہولتوں کو شدید نقصان پہنچایا، ہیلتھ ورکرز کی ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ تقریبا دو ملین فلسطینیوں تک خوراک اور ضروری امداد کی فراہمی پر پابندیاں عائد رہیں۔
مارچ میں اسرائیلی فورسز نے ترک، فلسطینی دوستی ہسپتال تباہ کردیا جو غزہ میں واحد کینسرسپیشلسٹ ادارہ تھا۔
ایس پی اے کے مطابق شاہ سلمان مرکز نے سرکاری چینلز کے ذریعے فلسطینی بچے کو علاج کے لیے کنگ حسین کینسر سینٹر منتقل کیا ہے۔
نو سالہ فلسطنی بچہ یزن سامی نسمان مختلف ٹیسٹوں کے بعد اب اردن میں زیرعلاج ہے۔

سعودی مرکز نے کنگ حسین کینسر سینٹر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے (فوٹو: ایس پی اے)

اس سے قبل شاہ سلمان مرکز نےغزہ کی 7 سالہ فلسطینی بچی ايلين رامي الكيلانی کے علاج کے لیے مدد فراہم کی۔
 آنت کے کینسر کے نازک اور خطرناک مرحلے میں مبتلا سات سالہ ایلین کو فوری اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت تھی۔
پیدائشی طور پر دل کے مرض میں مبتلا فلسطینی بچی’ میرا صھیب عقاد ‘کا سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کامیاب علاج کیا گیا۔
غزہ کی تین سالہ بچی سیلین شادی عبدالسلام کو علاج کے لیے اردن منتقل کیا جو شدید لیوکیمیا (خون کے سرطان) کے باعث نازک حالت میں مبتلا تھی۔
اسی طرح 16 سالہ حبیبہ یعقوب علی جو لمفوسیٹک لیو کیمیا میں مبتلا تھی علاج کےلیے مدد کی گئی۔
شاہ سلمان مرکز اس وقت اردن کے کنگ حسین سینٹر کے ساتھ غزہ سے تعلق رکھنے والے150 فلسطینی کیسنسر کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی پروجیکٹ چلا رہا ہے جس کی لاگت 3.6 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔
شاہ سلمان مرکز نے 2024 میں غزہ میں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے کنگ حسین کینسر سینٹر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد علاج سے محروم افراد کو بچانا تھا۔

 

شیئر: