Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم سمگلنگ والے راستے نہیں استعمال کر سکتے‘، سینکڑوں پاکستانی افغانستان میں پھنس گئے

پاکستان اور افغانستان کے دررمیان گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی سرحدی راستے بند ہوئے تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں جس کے باعث سینکڑوں پاکستانی طلبہ، تاجر اور خاندان افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور وطن واپسی کے منتظر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 25 سالہ میڈیکل کے طالب علم شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘
وہ سردیوں کی چھٹیوں میں پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ سے ملنا چاہتے تھے، تاہم 12 اکتوبر سے سرحد بند ہونے کے باعث وہ واپس نہیں جا سکے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ہوائی سفر انتہائی مہنگا ہے جبکہ سمگلنگ کے راستے خطرناک ہیں اس لیے واپسی کا کوئی محفوظ اور مناسب ذریعہ موجود نہیں۔ طلبہ کے ایک نمائندے کے مطابق صرف صوبہ ننگرہار میں ہی پانچ سے چھ سو پاکستانی طلبہ ایسے ہیں جو کسی طرح وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
جلال آباد میں میڈیکل کے طالب علم 22 سالہ شاہ فہد امجد نے مطالبہ کیا کہ ’دونوں ممالک کو سرحد کھولنی چاہیے تاکہ طلبہ اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔‘
سرحد کی بندش طویل ہونے پر کئی افراد کو ویزا مسائل اور مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ جلال آباد میں زیر تعلیم 23 سالہ برکت اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ ’یہ بحران صرف ہم جیسے افغانستان میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے نہیں بلکہ ان افغان طلبہ کے لیے بھی ہے جو پاکستان میں زیرِ تعلیم ہیں۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 سو کلومیٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں دونوں اطراف بسنے والے افراد کے لیے آمد و رفت، تجارت اور خاندانی روابط کا ڈیورنڈ لائن کی مختلف گزرگاہیں اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہ سرحد پشتون آبادیوں کو بھی تقسیم کرتی ہے جو دونوں ممالک میں رہتی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے دررمیان گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد سرحد زیادہ تر بند ہے البتہ ان افغان مہاجرین کو افغانستان جانے کی اجازت ہے جنہیں پاکستان واپس بھیج رہا ہے۔

افغان مہاجرین کے انخلا کے علاوہ پاک افغان سرحد ہرطرح کی نقل و حمل کے لیے بند ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ پاکستانی علاقوں میں حملے کرتے ہیں تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ثالثی کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں اور دونوں جانب سے دوبارہ لڑائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی دکاندار 21 سالہ احسان اللہ ہمت اپنے خاندان کے ہمراہ قندھار میں ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ وہ سرحد بند ہونے کے بعد وہیں پھنس گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب ہم اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’لڑائی شروع ہوئی، سڑک بند ہو گئی اور دو دن کا سفر ایک طویل اذیت بن گیا۔‘
احسان اللہ ہمت کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سمگلنگ کے راستوں سے نہیں جا سکتے اور دوسرے راستے بہت لمبے اور مہنگے ہیں جو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا ’اب سردی ہے، جاڑا ہے اور ہم اپنے بچوں کے ساتھ دربدر ہو گئے ہیں۔‘ اگرچہ افغانستان میں رشتہ داروں نے انہیں پناہ دے رکھی ہے لیکن وہ طویل قیام پر ’شرمندگی‘ محسوس کرتے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق تقریباً 12 سو افراد نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے وطن واپسی کے لیے رابطہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق 549 طلبہ سمیت تقریباً 12 سو افراد نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے وطن واپسی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ دسمبر کے اختتام تک تین سو سے زائد افراد ہوائی راستے سے پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
تاحال دونوں حکومتوں کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سرحد کب اور کن شرائط پر کھولی جائے گی۔ سپن بولدک بارڈر پوائنٹ پر پاکستان جانے والی سڑک مکمل طور پر بند ہے۔
39 سالہ ٹرک ڈرائیور خان محمد کئی ہفتوں سے وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان اڑھائی مہینوں میں، میں نے ایک کلو سامان بھی لوڈ نہیں کیا، کام مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری ساری روزی روٹی اسی گیٹ سے جڑی ہوئی ہے‘ اور امید ظاہر کی کہ سرحد جلد کھلے گی۔
خان محمد کے مطابق ’جب سرحد کھلے گی تو سب لوگ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔‘

شیئر: