Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تصاویر اور رپورٹنگ کا ’جرم‘، ایرانی فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو 15 سال قید کی سزا

نئے قانون کے تحت ان کے پاس اپیل کے لیے صرف 10 دن کا وقت ہے (فائل فوٹو: دی کرونیکل)
ایران کی معروف خاتون فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو حکومت مخالف احتجاج اور ملک کے حالات کی عکاسی کرنے والی تصاویر اور رپورٹس کی پاداش میں 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
یلدا معیری جنہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایرانی خواتین کی جدوجہد اور عوامی احتجاج کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے میں گزارا، کو یہ سزا ایران کے ’قومی یومِ صحافت‘ کے موقعے پر سنائی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ سزا ایران میں اسرائیل کے ساتھ 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد نافذ کیے گئے نئے سخت قوانین کے تحت سنائی گئی ہے۔
ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ملک میں جاسوسی اور دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون کا خاتمہ کرنا ہے۔
انقلاب عدالت کی کارروائی
یلدا معیری کے مطابق جب وہ تہران کی ’انقلاب عدالت‘ میں پیش ہوئیں تو انہیں کیس کی باضابطہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔
ان کے ہمراہ آنے والے ایک دوست نے چارج شیٹ کی تفصیلات ہاتھ سے نقل کیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار ایران کے عدالتی نظام میں شفافیت کے شدید فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
روئٹرز کی جانب سے جائزہ لی گئی ہاتھ سے لکھی گئی چارج شیٹ کی تفصیلات کے مطابق یلدا معیری پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی حکومت کی نظر میں دشمن سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیے اور امریکہ و اسرائیل سے منسلک تنظیموں کو تصاویر فراہم کیں۔

یلدا معیری اس سے قبل بھی اپنے کام کی وجہ سے جیل کاٹ چکی ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

روئٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں یلدا معیری نے بتایا کہ رواں برس جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک سامان ضبط کر لیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فضائی حملوں کے بعد حکام نے دوبارہ ان کے گھر کی تلاشی لی اور اس مرتبہ ان کے بچپن کے کیمرے بھی ساتھ لے گئے۔
یلدا معیری نے بتایا ’مجھ سے متعدد بار تفتیش کی گئی اور بالآخر میرا کیس سکیورٹی پراسیکیوٹر کے دفتر کی برانچ 33 اور بعد ازاں انقلاب عدالت کو ارسال کر دیا گیا۔‘
امریکہ میں قائم ’عبدالرحمٰن برومند سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رویا برومند کے مطابق کیس کی دستاویزات نہ دینا دراصل ملزمان کی آواز دبانے اور عدالتی نظام کو ریاست کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی مثال ہے۔
خواتین کی زندگی اور احتجاج کی عکاسی
یلدا معیری نے ایرانی حکومت کی جانب سے دشمن قرار دیے گئے امریکی و دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں بشمول سی این این کو ایران میں ہونے والے فضائی حملوں سے ہونے والے نقصان کی تصاویر فراہم کی تھیں اور مارچ 2026 میں ایک انٹرویو میں بھی شرکت کی تھی۔
نئے قانون کے تحت ان کے پاس اپیل کے لیے صرف 10 دن کا وقت ہے جو کہ گزشتہ قوانین کے مقابلے میں نصف ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق رواں سال ایران میں کم از کم 16 صحافیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے (فائل فوٹو: سی جے پی، ایکس)

یلدا معیری اس سے قبل بھی اپنے کام کی وجہ سے جیل کاٹ چکی ہیں۔ وہ قرچک جیل میں دو برس قید رہیں جس کی وہ ماضی میں تصاویر بنا چکی تھیں۔ سنہ 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہونے والے ’خواتین، زندگی، آزادی‘ تحریک کی کوریج کے دوران بھی انہیں گرفتار کر کے آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جسے بعد میں معافی کے تحت کم کر دیا گیا تھا۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق رواں سال ایران میں کم از کم 16 صحافیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اس تمام تر سخت صورتحال اور طویل قید کے امکان کے باوجود یلدا معیری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
ان کا کہنا تھا ’ان میں سے کوئی بھی سزا مجھے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکی۔ حکومت نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا ہے، اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں رہا۔ میرے پاس صرف ایک غیر جانبدار مشاہدہ کار کے طور پر میری سچائی اور ایمانداری باقی ہے۔‘

 

شیئر: