Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں چار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد، پولیس کا دعویٰ

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ’تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)
کراچی کے پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا اور دھماکوں کے لیے تیار کیا گیا چار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔
پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سندھ غلام اظفر کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کی کراچی سے 35، 40 کلومیٹر کے فاصلے پر بارودی مواد کی تیاری ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق ’اس کے بعد خفیہ اداروں، سندھ اور بلوچستان پولیس کے اشتراک سے حکمت عملی بنائی گئی اور اہلکاروں کو مختلف مقامات پر متعین کیا گیا۔‘
حکام نے بتایا کہ ’کئی روز کی تگ و دو کے بعد رئیس گوٹھ میں ایک خفیہ مقام کی معلومات ملیں، جہاں دہشت گردوں نے بھاری مقدار میں بارود اور دوسرا تباہ کن مواد تیار کر رکھا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ایک ملزم کو موقع سے پکڑا گیا جبکہ باقی فرار ہو گئے تاہم پکڑے گئے شخص کی نشاندہی پر دیگر مقامات پر چھاپے مارے گئے اور دو مزید ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک نے بتایا کہ ’ٹھکانے سے بارودی مواد سے بھرا ایک عدد مزدا ٹرک، ایسے ہی مواد سے بھرے 30 سے زائد پلاسٹک کے بڑے ڈرم، پانچ بڑے سلنڈر، 2000 کلوگرام سے زائد بارودی مواد اور ڈیٹونیٹرز برآمد ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے کراچی شہر میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی مںصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کارروائی اب بھی جاری ہے اور دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

شیئر: