یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، ’ریڑھ کی ہڈی، ٹانگیں ٹوٹ گئیں‘
یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، ’ریڑھ کی ہڈی، ٹانگیں ٹوٹ گئیں‘
پیر 5 جنوری 2026 14:25
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
یونیورسٹی کے رجسٹرار کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ فائل فوٹو
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع یونیورسٹی آف لاہور میں فارم ڈی کے پہلے سمسٹر کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ حسین نے مبینہ طور پر عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق طالبہ کو فوری طور پر یونیورسٹی کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم بعد میں انہیں جنرل ہسپتال لے جایا گیا۔
یہ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں چند افراد کو طالبہ کو اُٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس مقام کو سیل کر دیا گیا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے اردو نیوز کو بتایا کہ فاطمہ حسین کا تعلق شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی سے ہے اور انہوں نے قریباً دو ماہ قبل فارم ڈی کے پہلے سمسٹر میں داخلہ لیا تھا۔
رجسٹرار نے بتایا کہ طالبہ فاطمہ دو دن کی چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی آئی تھیں اور ان کی والدہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق طالبہ پر کوئی اضافی فیس یا جرمانہ واجب الادا تھا اور نہ ہی اساتذہ سے کسی تنازعے کا ریکارڈ ملا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد ٹھوس وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کے بعد کیمپس کو عارضی طور پر بند کرتے ہوئے منگل سے آن لائن کلاسز کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
لاہور کے جنرل ہسپتال کے اے ایم ایس (ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) ڈاکٹر محمد جعفر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبہ کے تمام ٹیسٹ کروانے کے بعد انہیں آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا ہے۔ سرجنز، آرتھوپیڈک اور نیور سرجنز سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی حالت کا جائزہ لے رہی ہے۔‘
ڈاکٹر محمد جعفر کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت کافی حد تک مستحکم ہوئی ہے۔ ان کی سرجری کا منصوبہ بنایا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’طالبہ کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں بھی ٹوٹی ہیں۔ طالبہ کو کافی فریکچرز آئے ہیں اور سر میں بھی چوٹ آئی ہے۔‘
یاد رہے کہ یہ واقعہ اسی فارم ڈی ڈیپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں چند روز قبل اویس سلطان نامی طالب علم نے خودکشی کی تھی۔
گزشتہ ماہ محمد اویس سلطان نامی طالب علم نے مبینہ طور پر حاضری کی کمی اور امتحان میں بیٹھنے نہ دیے جانے کے دباؤ سے تنگ آ کر عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ اویس کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے مذاکرات کیے اور ایک کمیٹی تشکیل دی۔
گزشتہ ماہ بھی ایک طالب علم نے یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔ فائل فوٹو: سکرین گریب
یونیورسٹی کمیٹی میں طلبہ کے نمائندے رومان خان مروت کو شامل کیا گیا جو احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اویس سلطان کے واقعے کے بعد یونیورسٹی نے کئی مطالبات مان لیے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’ان میں جرمانوں کی معافی، حاضری کی کمی پر 500 روپے سے زائد جرمانہ نہ لگانا، یونیورسٹی ہسپتال کی او پی ڈی فیس 300 سے کم کر کے 150 روپے کرنا اور حاضری کے مسائل پر لچک دکھانا شامل تھا۔‘
رومان خان نے کہا کہ ان مسائل کو حل کر لیا گیا تھا اور فی الحال فاطمہ کے واقعے پر کوئی احتجاج نہیں کیا جا رہا ’تاہم ہم پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکے جا سکے۔‘