Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، ’چھٹیوں کے بعد آئی تھی‘

یونیورسٹی کے رجسٹرار کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ فائل فوٹو
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی نجی یونیورسٹی میں فارم ڈی کے پہلے سمسٹر کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ حسین نے مبینہ طور پر عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق طالبہ کو فوری طور پر یونیورسٹی کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم بعد میں انہیں جنرل ہسپتال لے جایا گیا۔
یہ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے طلبا نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں چند افراد کو طالبہ کو اُٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس مقام کو سیل کر دیا گیا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے اردو نیوز کو بتایا کہ فاطمہ حسین کا تعلق شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی سے ہے اور انہوں نے تقریباً دو ماہ قبل فارم ڈی کے پہلے سمسٹر میں داخلہ لیا تھا۔
رجسٹرار نے بتایا کہ طالبہ فاطمہ دو دن چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی آئی تھیں اور ان کی والدہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق طالبہ پر کوئی اضافی فیس یا جرمانہ واجب الادا نہیں تھا اور نہ ہی اساتذہ سے کسی تنازعے کا ریکارڈ ملا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد ٹھوس وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق طالبہ چھلانگ لگانے کے بعد زخمی ہوئی ہیں۔ طالبہ کے دونوں پاؤں میں فریکچر اور ریڑھ کی ہڈی زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کے بعد کیمپس کو عارضی طور پر بند کرتے ہوئے منگل سے آن لائن کلاسز کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ 
یاد رہے کہ یہ واقعہ اسی فارم ڈی ڈیپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں چند روز قبل اویس سلطان نامی طالب علم نے خودکشی کی تھی۔
گزشتہ ماہ محمد اویس سلطان نامی طالب علم نے مبینہ طور پر حاضری کی کمی اور امتحان میں بیٹھنے نہ دیے جانے کے دباؤ سے تنگ آ کر عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ اویس کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو لسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے مذاکرات کیے اور ایک کمیٹی تشکیل دی۔

گزشتہ ماہ بھی ایک طالب علم نے یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔ فائل فوٹو: سکرین گریب

یونیورسٹی کمیٹی میں طلبہ کے نمائندے رومان خان مروت کو شامل کیا گیا جو احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اویس سلطان کے واقعے کے بعد یونیورسٹی نے کئی مطالبات مان لیے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’ان میں جرمانوں کی معافی، حاضری کی کمی پر 500 روپے سے زائد جرمانہ نہ لگانا، یونیورسٹی ہسپتال کی او پی ڈی فیس 300 سے کم کر کے 150 روپے کرنا اور حاضری کے مسائل پر لچک دکھانا شامل تھا۔‘
رومان خان نے کہا کہ ان مسائل کو حل کر لیا گیا تھا اور فی الحال فاطمہ کے واقعے پر کوئی احتجاج نہیں کیا جا رہا ’تاہم ہم پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکے جا سکے۔‘

 

شیئر: