اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نظر آنے والا تیندوا کہاں گیا؟
پیر 5 جنوری 2026 16:23
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس میں تیندوے کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جانور کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور فی الحال اسے قابو میں کرنے کے بجائے اس کے قدرتی راستے سے واپس لوٹانے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔
وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ تیندوے کو پہلی مرتبہ 24 دسمبر کی شب یونیورسٹی کے احاطے میں دیکھا گیا تھا، جب طلبہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
اس کے بعد آئی ڈبلیو ایم بی کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور علاقے کی نگرانی شروع کی گئی۔
بورڈ کے ڈائریکٹر سخاوت علی کے مطابق سروے کرنے پر تازہ پنجوں کے نشانات ملے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ تیندوا کیمپس میں کچھ وقت تک موجود رہا، تاہم اس کے بعد سے اسے دوبارہ براہِ راست نہیں دیکھا گیا۔
اتنے دن گزر جانے کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس میں نظر آنے والے عام تیندوے نے شہر بھر میں تشویش کے ساتھ ایک ہی سوال کو جنم دیا ہے کہ یہ جانور آخر کہاں گیا؟
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) کے مطابق تیندوا اب بھی براہِ راست نظروں سے اوجھل ضرور ہے، تاہم اس کی موجودگی کے شواہد تاحال مل رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اسی قدرتی راستے سے واپس مارگلہ ہلز کی طرف لوٹ رہا ہو جس سے وہ کیمپس تک پہنچا تھا۔
آئی ڈبلیو ایم بی کے ابتدائی تجزیے کے مطابق تیندوا مارگلہ ہلز سے نکلنے والے قدرتی بارشی نالوں کے ذریعے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہوا تھا اور غالب امکان ہے کہ وہ اسی راستے سے واپس نکل چکا ہو یا نکلنے کے عمل میں ہو۔
وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ ایک تنہا تیندوے کا علاقۂ نقل و حرکت تقریباً 21 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے اور ایسے جانور عموماً آبادی والے علاقوں میں زیادہ دیر قیام نہیں کرتے۔
حکام کے مطابق تیندوے کی آمد کی ممکنہ وجہ شکار کی تلاش تھی، کیونکہ یونیورسٹی اور اس کے اطراف میں جنگلی سور اور آوارہ کتوں کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ جانور نے تاحال کسی انسان پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کے نقصان کی اطلاع ملی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تیندوا پرسکون انداز میں آیا اور خاموشی سے واپس لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ جانور کو زبردستی قابو میں کرنے کے بجائے نگرانی کو ترجیح دی گئی، کیونکہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ تیندوے کو بھگانے یا پکڑنے کی کوشش اسے خوفزدہ کر سکتی ہے اور وہ گھروں یا آبادی میں پناہ لے سکتا ہے۔ 2023 میں ڈی ایچ اے میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اسی حکمتِ عملی کو زیادہ محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کیمپس میں نصب کیے گئے جالوں میں تاحال تیندوا نہیں آیا، البتہ ایک آوارہ کتا جال میں پھنس گیا تھا، جسے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔
وائلڈ لائف ٹیمیں مسلسل گشت کر رہی ہیں اور جدید آلات، بشمول تھرمل ڈرون، کے ذریعے علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ تیندوا واپس اپنے قدرتی مسکن میں جا چکا ہے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ اور عملے کے لیے احتیاطی ہدایات برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ طلبہ، بالخصوص ہاسٹل میں مقیم افراد، کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلے مقامات پر نہ جائیں اور محفوظ قرار دیے گئے علاقوں تک محدود رہیں۔ سکیورٹی ٹیموں کو بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ جانور پر فائرنگ نہ کی جائے۔
آئی ڈبلیو ایم بی کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تحفظِ جنگلی حیات کی پالیسیوں کے باعث عام تیندوؤں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت یہ علاقہ تقریباً 10 تیندوؤں کا مسکن ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کے قریب تیندوے کی آمد اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ جانور اپنا قدرتی علاقہ دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق فی الحال شواہد یہی بتاتے ہیں کہ اسلامی یونیورسٹی میں نظر آنے والا تیندوا یا تو واپس مارگلہ ہلز کی جانب جا چکا ہے یا اپنے قدرتی راستے پر واپسی کے مرحلے میں ہے، تاہم مکمل تصدیق تک نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا اور شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔
